
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی مسودے کی زبان بدلنے کو کہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہے اور جہازوں کی آمد ورفت پر کوئی محصول یا اضافی کنٹرول نے ہو۔ حالانکہ ایران پہلے ہی اشارے دے چکا ہے کہ وہ ہرمز میں سکیورٹی اور نگرانی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب نظرثانی شدہ تجویز ایران کو بھیجی گئی ہے۔ جواب آنے میں تقریباً 3 دن لگ سکتے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’’وہ سچ میں غاروں میں بیٹھے ہیں اور ای میل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔‘‘ وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ ایک معاہدہ بالآخر طے پا جائے گا لیکن وقت ابھی تک واضح نہیں ہے۔





