امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ’مکمل ناکہ بندی‘ نافذ کرنے کا دعویٰ کیا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 15, 2026360 Views


خاص خبر

ایران پر حملوں کے 47 ویں دن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے باعث سمندری تجارت ٹھپ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ ادھر اسرائیل لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ کئی ممالک نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور امریکہ کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک شخص موٹر سائیکل چلاتے ہوئے، جس کی ونڈ شیلڈ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای (اوپر) اور ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویریں لگی ہیں، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ تصویر 13 اپریل 2026 کی ہے۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 47ویں دن تنازعہ مزید سنگین ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایک طرف جہاں فوجی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر جنگ روکنے کے مطالبات میں بھی شدت آ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ (15 اپریل) کو دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی بندرگاہوں کی ’مکمل ناکہ بندی‘نافذ کر دی ہے۔ کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں سمندری برتری برقرار رکھتے ہوئے امریکی افواج نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت کا بڑا حصہ سمندری تجارت پر منحصر ہے اور ناکہ بندی نافذ ہونے کے 36 گھنٹے کے اندر ہی سمندری راستوں سے ہونے والا معاشی لین دین تقریباً مکمل طور پر روک دیاگیا ہے۔

دریں اثنا،  امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید کوروکنے کے اشارے دینے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان کی تنقید کی ہے۔ ایک اطالوی اخبار سے بات چیت میں ٹرمپ نے کہا کہ میلونی میں ’جرأت کی کمی‘ہے اور وہ ایران پر حملوں میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہیں۔

دوسری جانب، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، سیرا لیون اور سوئٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے لبنان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال اور نقل مکانی کے بحران پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے۔ ان ممالک نے لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

حالاں کہ سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے، لیکن زمینی حالات میں کوئی ٹھہراؤ نظر نہیں آ رہا۔ امریکہ میں لبنان اور اسرائیل کے سفارت کاروں کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں، لیکن اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہیں۔ ٹائر اور عباسیہ جیسے علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں، جن میں کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

مجموعی طور پر ایک طرف معاشی اور فوجی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری جنگ روکنے کی اپیل کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ تنازعہ مزید پیچیدہ اور غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...