علی خامنہ ای کی شہادت کے غم میں منعقد اجلاس پر پولیس کارروائی سے مولانا کلب جواد ناراض، پی ایم مودی کو لکھا خط

AhmadJunaidJ&K News urduMay 2, 2026360 Views


مولانا کلب جواد نے آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کا غم منانے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کو امریکی دباؤ میں اٹھایا گیا قدم بتایا اور حکومت ہند کے ذریعہ تعزیتی پیغام نہ بھیجے جانے کی مذمت بھی کی۔

مولانا کلب جواد، تصویر آئی اے این ایسمولانا کلب جواد، تصویر آئی اے این ایس

i

user

اتر پردیش و ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر اجلاس منعقد کر لوگوں نے غم کا اظہار کیا۔ کئی مقامات پر غم منانے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی ہوئی، جس پر مسلم مذہبی پیشواؤں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ لکھنؤ میں شیعہ مذہبی پیشوا مولانا کلب جواد نقوی نے بھی اس سلسلے میں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا کلب جواد نقوی نے پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو بھی خط لکھ کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کا غم منانے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کو امریکی دباؤ میں اٹھایا گیا قدم بتایا اور حکومت ہند کے ذریعہ تعزیتی پیغام نہ بھیجے جانے کی مذمت بھی کی۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ اس خط کے ذریعہ مولانا کلب جواد نقوی نے ایران پر حالیہ حملوں کو لے کر ہندوستان کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے حکومت سے پوچھا ہے کہ جب ایران جیسے دوست ملک پر حملہ ہو رہا ہے، تو ہندوستان خاموش کیوں ہے؟ انھوں نے ہندوستان-ایران کے مضبوط تاریخی و اسٹریٹجک رشتوں کو یاد دلاتے ہوئے دفاعی معاہدوں اور خارجہ پالیسی پر از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ خط میں اتر پردیش اور کشمیر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر غم منانے والوں پر پولیس کارروائی کی خاص طور پر مخالفت کی گئی ہے۔

مولانا کلب جواد نے تعزیتی اجلاس معاملہ میں نوجوانوں کی گرفتاری اور ان پر درج مقدمات کو ناانصافی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانی ثقافتی، مذہبی و اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جو توانائی سیکورٹی، علاقائی استحکام اور تجارت کے لیے اہم ہیں۔ انھوں نے دفاعی معاہدوں کے تجزیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی کو آزاد اور ملکی مفادات کے موافق رکھنا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...