
اب یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں اس ٹی وی نیٹ ورک اور اینکر نے خان سر، ابھینیو شرما، ببیتا تیاگی اور دیگر اساتذہ کے خلاف دو کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس تنازع کی شروعات 31 مئی کو ہوئی، جب ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انجنا اوم کشیپ نے ’’سیلیبریٹی اساتذہ‘‘ کو ’’کوچنگ مافیا‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ خود کو عوام کا خیر خواہ ظاہر کرتے ہیں، لیکن درحقیقت طلبہ اور ان کے والدین کا استحصال کرتے ہیں۔
آن لائن تدریس سے وابستہ اساتذہ نے فوری طور پر اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ سب سے آگے ابھینیو شرما تھے، جو ایس ایس سی کی تیاری کرنے والے طلبہ کو ریاضی پڑھاتے ہیں اور جن کے یوٹیوب پر 30 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں۔ لاکھوں افراد کی جانب سے دیکھی گئی ایک لائیو اسٹریم میں شرما نے ’’گودی میڈیا‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنے کے بجائے ان کا دفاع کرتا ہے۔
پٹنہ کے ’خان گلوبل اسٹڈیز‘ کے ’خان سر‘ کے نام سے معروف فیصل خان، جن کے 61 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں، اور سونی پت کی ببیتا تیاگی بھی ان کے ساتھ آ گئیں۔ ببیتا ’’آئی سی ایس کوچنگ سینٹر‘‘ میں طلبہ کو یو پی ایس سی اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرواتی ہیں اور ان کے یوٹیوب پر 37 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں۔ یکم جون کو جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا: ’’ہمارے پرائم ٹائم نیوز میں ایسی خبریں دکھائی جاتی ہیں کہ جھالموڑی میں کون سا تیل استعمال ہوتا ہے اور اس کی خوشبو کیسی ہوتی ہے۔‘‘






