
اس سے بھی پہلے 1908 میں، جب مزدور تحریک ابھی اپنی ابتدائی حالت میں تھی، برطانوی حکومت نے ممتاز قوم پرست رہنما بال گنگا دھر تلک کو چھ سال قید کی سزا سنائی تو اس کے خلاف بمبئی میں مزدوروں نے چھ دن کی عام ہڑتال کی تھی۔ ممکن ہے یوگی کو وہ ہڑتال بھی مثبت نہ لگتی ہو، کیونکہ جس طرح تحریکِ آزادی میں ان کی نظریاتی تنظیم کا کوئی کردار نہیں تھا، ویسے ہی اس ہڑتال میں بھی اس کی کوئی شمولیت نہیں تھی، اور شاید یہی احساسِ محرومی اس رویے کے پیچھے ہو۔ لیکن انہیں اس سوال کا جواب ضرور دینا چاہیے کہ اگر ٹریڈ یونینوں کا کردار مثبت نہ ہوتا تو مجاہدِ آزادی، ادیب اور سماجی مصلح لالا لاجپت رائے آخر ملک بھر میں انہیں منظم کرنے میں کیوں لگے رہتے؟
تاریخ گواہ ہے کہ غلامی کے اس دور میں انہوں نے مزدوروں کے استحصال کو پہچانا اور انہیں اپنی یونینوں کے جھنڈے تلے متحد ہو کر بہتر اجرت، اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کی ترغیب دی۔ 1914 سے 1920 تک بیرونِ ملک قیام کے دوران وہ برطانوی لیبر پارٹی کے رابطے میں رہے اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی مزدوروں کی آواز اٹھائی۔ اسی طرح دیش بندھو چترنجن داس نہ صرف عظیم مجاہدِ آزادی، وکیل اور سیاست دان تھے بلکہ ہندوستانی مزدور تحریک کے بڑے رہنما اور خیر خواہ بھی تھے۔ وہ مزدوروں کے پسینے کو ملک کا خون قرار دیتے تھے اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے تھے۔
آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے کلکتہ (موجودہ کولکاتا) میں مختلف ملوں اور کارخانوں کے مزدوروں کی ہڑتالوں کی حمایت کی اور انہیں برطانوی حکومت اور سرمایہ داروں کے مظالم سے بچانے کے لیے قانونی اور اخلاقی مدد فراہم کی۔






