ای ایس آئی سی کا نجکاری حل نہیں…اجیت راناڈے

AhmadJunaidJ&K News urduJune 14, 2026362 Views


انتظامی اصلاحات بھی بے حد اہم ہیں۔ ای ایس آئی سی کو مزدوروں اور آجروں، خصوصاً ایم ایس ایم ای شعبے، کے لیے زیادہ جواب دہ بنانا ہوگا۔ اس کے بورڈ اور ریاستی اداروں میں کنٹریکٹ مزدوروں سمیت عام مزدوروں، آجروں، حکومت اور آزاد طبی ماہرین کی مؤثر نمائندگی ہونی چاہیے۔ اجرت کی بالائی حد میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اسے بڑھایا جانا چاہیے اور وقتاً فوقتاً مہنگائی کے مطابق اس میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ اس کا دائرہ بتدریج تعمیراتی مزدوروں، گگ ورکرز اور پلیٹ فارم ورکرز تک بھی وسیع کیا جانا چاہیے۔ ای ایس آئی سی کے فنڈز کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ای ایس آئی سی کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے۔ یہ صرف اسپتال میں داخلے کے اخراجات کی کوئی عام اسکیم نہیں ہے۔ یہ صحت کی دیکھ بھال کو کام کے دوران پیش آنے والی چوٹوں، اجرت کے نقصان، زچگی کے تحفظ، معذوری پنشن اور پیشہ ورانہ بیماریوں کی نگرانی سے جوڑتی ہے۔ اس ادارہ جاتی صلاحیت کو تشکیل دینے میں کئی دہائیاں صرف ہوئی ہیں، اس لیے اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہندوستان کے صحت کے شعبے کا بحران عوامی نظام کی زیادتی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مؤثر عوامی نظام کی شدید کمی کا نتیجہ ہے۔ جب ملک میں تقریباً نصف اموات کسی تربیت یافتہ طبی نگرانی کے بغیر ہو رہی ہوں تو اس کا حل ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ مزدوروں کو ان کے لیے بنائے گئے واحد قانونی نظام سے محروم کر دیا جائے۔ حل صرف ایک ہے: اس نظام کو درست کیا جائے۔ اس کا پیشہ ورانہ انداز میں انتظام کیا جائے اور اس میں شفافیت لائی جائے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ ضرور اٹھایا جائے، لیکن شرائط ای ایس آئی سی کی ہونی چاہئیں۔ اس منصوبے کے عوامی کردار کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ایک مضبوط اور ازسر نو فعال ای ایس آئی سی ہندوستان میں جامع سماجی صحت تحفظ کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتی ہے۔

(اجیت راناڈے، معروف ماہرِ معاشیات، بشکریہ: دی بلین پریس)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...