ایم این ایل یو نے ریزرویشن پالیسی کی خلاف ورزی پر دی وائر کی رپورٹ کے بعد پی ایچ ڈی داخلے شروع کیے

AhmadJunaidJ&K News urduJune 11, 2026364 Views


ریزرویشن پالیسی کی خلاف ورزی پر دی وائر کی رپورٹ کے بعد مہاراشٹر نیشنل لا یونیورسٹی نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت اُن طبقات کے طلبہ کو داخلہ دینے کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی گئی ہے جنہیں یونیورسٹی برسوں سے باہر رکھتی آ رہی تھی۔تاہم، پی ایچ ڈی پروگرام کا 2026 کا بیچ پہلے ہی مارچ میں شروع ہو چکا ہے اور طلبہ اپنا کورس ورک مکمل کرنے والے ہیں۔ اب آنے والے بیچ میں صرف الگ الگ ریزرو زمروں کے طلبہ ہوں گے۔

مہاراشٹر نیشنل لا یونیورسٹی (فوٹو: ارینجمنٹ)

منگلورو: مہاراشٹر نیشنل لا یونیورسٹی (ایم این ایل یو) ناگپور کے پی ایچ ڈی پروگرام سے درج فہرست ذاتوں(ایس سی)، درج فہرست قبائل(ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات(او بی سی)اور حاشیے پر موجود دیگر برادریوں کے طلبہ کو منظم طور پر  باہر رکھنے کے بارے میں 3 جون کو دی وائر نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی۔

اس رپورٹ کے ایک دن بعد یونیورسٹی نے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں ان طبقات کے طلبہ کو داخلہ دینے کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی گئی، جنہیں وہ برسوں سے باہر رکھتی آ رہی تھی۔

اس نوٹیفکیشن میں 19 سیٹوں کا ذکر تھا، جو حاشیے پر موجود الگ الگ گروپ کے طلبہ کے لیے مختص کی گئی تھیں۔ حالاں کہ اس کو اوپر سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے کہ یونیورسٹی اپنی طویل عرصے سے چلی آ رہی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اصل میں یہ نیا نوٹیفکیشن پہلے سے کہیں زیادہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔

گزشتہ سال یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی 35 سیٹوں کے لیے اشتہار جاری کیا تھا۔ ان میں  22 طلبہ کا انتخاب ہوا، اور یہ سب جنرل (اشرافیہ) زمرے سےتھے۔ وہیں،ریزرو زمروں میں صرف تین او بی سی امیدواروں (سات محفوظ سیٹوں کے مقابلے ) اور خانہ بدوش برادری کے ایک امیدوار (تین سیٹوں کے مقابلے ) کو ہی داخلہ مل پایا۔ مجموعی طور پر یونیورسٹی نے 25 طلبہ کو داخلہ دیا جبکہ 10 سیٹیں خالی رہ گئیں۔

اب نئے اشتہار کے لاگو ہونےکے بعد سیٹوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 44 ہو گئی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یونیورسٹی خالی پڑی 10 سیٹوں کو پُر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔

مہاراشٹر کی ریزرویشن پالیسی کے مطابق، کل سیٹوں میں سے 26 سیٹیں الگ الگ ریزرو زمروں کے طلبہ کے لیے مختص ہونی چاہیے۔ تاہم، یونیورسٹی نے صرف 22 ریزرو سیٹوں کی اجازت دی ہے۔

اس کے علاوہ، 18 سیٹیں جنرل زمرے کے امیدواروں کے لیے مختص کی جانی چاہیے، لیکن پہلے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی اس زمرے سے پہلے ہی 22 طلبہ کا انتخاب کر چکی ہے۔

تین جون کو دی وائر نے نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ کاسٹس میں دیپک کھرات کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کے بارے میں  رپورٹ شائع کی تھی۔

لا گریجویٹ دیپک کھرات ایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ سے رجوع کرنا پڑا تھا۔

حالاں کہ، انہوں نے داخلہ امتحان پاس کر لیا تھا اور اپنا تحقیقی منصوبہ (ریسرچ پروپوزل) بھی جمع کرا دیا تھا، لیکن فائنل انٹرویو راؤنڈ میں انہیں منتخب نہیں کیا گیا۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے یونیورسٹی کی سخت سرزنش کی، جس کے بعد آخر کار کھرات کو داخلہ مل گیا۔

شنوائی کے دوران عدالت نے دیگر کئی باتوں کے ساتھ یونیورسٹی کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ وہ ریزرو زمروں کے طلبہ کے لیے نافذ 50 فیصد کٹ آف شرط کو ختم کرے۔

اس سلسلے میں جب یونیورسٹی کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ کھرات 50 فیصد کٹ آف کی کیٹیگری میں نہیں آتے، تو جسٹس انل پانسارے نے کہا، ’یہ فیصلہ کرنے والے آپ کون ہوتے ہیں؟ ریزرو زمرے کے طالبعلم کے معاملے میں آپ کو کچھ نرمی برتنی چاہیے۔‘ یہ بات عدالت کے فیصلے میں یونیورسٹی کے لیے جاری کردہ ہدایات میں بھی شامل ہے۔

اب اگر ایم این ایل یو کٹ آف مارکس برقرار نہیں رکھ سکتی، تو کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی نے دوبارہ داخلہ امتحان کا ایک نیا   راؤنڈ کرانے کا فیصلہ کیوں کیا ہے، جبکہ ہائی کورٹ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے؟ اس کے ساتھ ہی ان 20 طلبہ کا کیا ہوگا جنہوں نے پہلے امتحان دیا اور کامیاب بھی ہوئے، لیکن انہیں داخلہ نہیں مل سکا؟

ہندوستان کے تمام نیشنل لا اسکولوں میں سے مہاراشٹر میں قائم تین این ایل یو-ناگپور، اورنگ آباد اور ممبئی-نسبتاً نئے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ایک دہائی قبل ان یونیورسٹیوں کو ریاست میں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فڈنویس کے آبائی حلقے میں قائم ایم این ایل یو ناگپور میں 2015 سے وجیندر کمار ہی وائس چانسلر (وی سی) ہیں۔ وی سی ہونے کے ساتھ ساتھ کمار ڈاکٹریٹ کونسل اور ریسرچ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور پی ایچ ڈی امیدواروں کے انتخاب میں براہ راست کردار ادا کرتے ہیں۔

دی وائر نے وجیندر کمار، یونیورسٹی کے پراکٹر وجئے پرتاپ تیواری اور رجسٹرار دیپک بھاگوت کو خط لکھا۔ جہاں کمار اور بھاگوت نے کوئی جواب نہیں دیا، وہیں تیواری نے کہا کہ نئے نوٹیفکیشن سے متعلق سوالوں کا جواب صرف وائس چانسلر ہی دے سکتے ہیں۔

تیواری یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر بھی ہیں اور میڈیا کے سوالوں کا جواب دینا انہی کی ذمہ داری ہے۔ وائس چانسلر کا جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

نئے نوٹیفکیشن کے مطابق، خواہش مند امیدوار صرف جولائی میں ہی امتحان دے سکتے ہیں۔

معلوم ہو کہ پی ایچ ڈی پروگرام کا 2026 بیچ پہلے ہی مارچ میں شروع ہو چکا ہے اور طلبہ اپنا کورس ورک مکمل کرنے والے ہیں۔ آئندہ بیچ میں صرف الگ الگ ریزرو زمروں کے طلبہ ہوں گے۔ کھرات کا کہنا ہے کہ اس قدم سے یونیورسٹی نے ’طلبہ کو ان کی ذات پر مبنی شناخت کی بنیاد پر اصل میں  الگ تھلگ کر دیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں، ’پہلا بیچ اشرافیہ کے لیے ہے اور نیا بیچ ریزرو زمرے کے بیچ کے طور پر جانا جائے گا۔‘

یونیورسٹی حکام کو بھیجے گئے سوالوں میں دی وائر نے پوچھا تھا کہ کیا طلبہ کو ان کی ذات کی بنیاد پر الگ کیا جا رہا ہے۔ اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

غور طلب ہے کہ یہ کوئی واحد معاملہ نہیں ہے۔ 2017 سے اب تک یونیورسٹی میں مختلف ریزرو زمروں سے کم از کم 89 طلبہ ہونا چاہیے تھا، لیکن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف 22 طلبہ ہی منتخب کیے گئے ہیں۔

معلوم ہو کہ ریزرویشن ایک آئینی حق ہے اور طلبہ کو داخلہ نہ دینا اس حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...