
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)
نئی دہلی: کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو چیلنج کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ وہ انہیں بتائے کہ کس قانون کے تحت تنظیم کو حکومت کے سامنے جوابدہ ہونے سے چھوٹ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں ہر ٹھیلہ- پھیری والے کو بھی رجسٹریشن کرانا پڑتا ہے، وہاں آر ایس ایس جیسی تنظیم قانون سے اوپر کیسے ہو سکتی ہے؟
دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق، 10 جون کو دیے گئے اپنے بیان میں کانگریس رہنما نے آر ایس ایس رہنماؤں کو اپنے دفتر آنے اور تنظیم کی قانونی حیثیت سے متعلق دستاویزپیش کرنے کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے کہا، ’آر ایس ایس مجھے اپنے کیشو کرپا ہیڈکوارٹر بلائے۔ مجھے وہ قانون دکھائیں جس کے تحت انہیں حکومت کے سامنے جوابدہ ہونے سے چھوٹ حاصل ہے۔ یا پھر وہ دستاویز لے کر میرے دفتر آ جائیں۔ وہ دکھائیں کہ انہیں آئین کی دفعات سے کیسے استثنیٰ حاصل ہے۔ میں اس کی جانچ کروں گا۔ اگر میں غلط ہوا تو معافی مانگ لوں گا، ورنہ انہیں اپنی غلطی ٹھیک کرنی ہوگی۔‘
کھڑگے آر ایس ایس پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ آر ایس ایس حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مربی تنظیم ہے، اور اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ تنظیم کو باقاعدہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔
بھاگوت نے متنازعہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ آر ایس ایس ’لوگوں کے گروپ‘کے طور پر کام کرتا ہے، جسے موجودہ قانونی دفعات کے تحت پہلے ہی تسلیم کیا گیا ہے۔
بھاگوت نے کہا تھا،’ہمیں لوگوں کے گروپ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے اور ہم ایک تسلیم شدہ تنظیم ہیں۔ انکم ٹیکس محکمے نے ہم سے ٹیکس بھرنے کو کہا تھا، اور معاملہ عدالت تک گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ لوگوں کا ایک گروپ ہے اور ہماری گرو دکشنا (عطیہ) کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔‘
پچھلے مہینے کھڑگے نے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ 2500 سے زائد تنظیموں کے نیٹ ورک کا عوامی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیمیں بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہی ہیں اور اس لیے قانون کے دائرے سے باہر ہیں، وہیں دوسری طرف حکومت ایف سی آر اے جیسے قوانین کے ذریعے این جی اوز کے کام کرنے کے طریقے پر روک لگا رہی ہے۔
اس قانون کو بین الاقوامی تنظیموں یا بین الاقوامی فنڈنگ حاصل کرنے والے ان گھریلو اداروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ان پر روک لگانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری حقوق، انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں اور مذہبی آزادی پر اثر پڑ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاست میں آنے سے پہلے کے غیر ملکی دوروں پر بھی سوال اٹھائے۔
انہوں نے لکھا کہ جب مودی جی خود کو’فقیر‘ کہتے تھے اور آر ایس ایس کے پرچارک تھے، تب انہوں نے امریکہ، جرمنی، برطانیہ، گیانا، کینیڈا، ملائیشیا اور فرانس سمیت 14 سے زائد ممالک کا دورہ کیا تھا۔ ان دوروں کا خرچ کس نے اٹھایا؟ کیا اس کے لیے آر ایس ایس، یعنی نام نہاد رجسٹرڈ ’این جی او‘نے پیسے دیے تھے؟‘
دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق، 10 جون کو کھڑگے نے کہا کہ جس ملک میں سڑک پر سامان بیچنے والے کو بھی رجسٹریشن کرانا پڑتا ہے، مندروں کو ملنے والے عطیات کا حساب دینا پڑتا ہے اور شہریوں کو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا پڑتا ہے، وہاں آر ایس ایس کو چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا،’وہ مسلسل خود کو لوگوں کا گروپ کہتے ہیں۔ بنگلورو کلب بھی لوگوں کا ایک گروپ ہے۔‘
ریاست میں وزیر داخلہ بننے کے بعد ایک ٹوئٹ میں پریانک کھڑگے نے آر ایس ایس سے کہا تھا کہ وہ رجسٹریشن کے لیے ’اپنے دستاویز تیار رکھے۔‘
اس کے جواب میں بی جے پی رہنما سی ٹی روی نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزرائے اعظم جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی نے بھی آر ایس ایس پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی، لیکن ناکام رہے۔
اس پر کھڑگے نے دکن ہیرالڈ سے کہا،’مجھے نہیں لگتا سی ٹی روی کو تاریخ کا علم ہے۔ آر ایس ایس پر پابندی لگنے کے بعد اس کے رہنماوں نے نہرو اور سردار پٹیل کے قدموں میں گر کر فریاد کی تھی۔ جب اندرا گاندھی نے آر ایس ایس پر پابندی لگائی تو اس کے سرسنگھ چالک نے ایمرجنسی کی حمایت میں ایک طویل قصیدہ لکھا تھا۔‘






