بہرام پور لوک سبھا سیٹ سے ممتا بنرجی کے انتخاب لڑنے کی خبروں کے درمیان ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو کے ذریعہ انہوں نے بتایا کہ ممتا بنرجی یا کسی بھی پارٹی لیڈر نے مجھ سے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے نہیں کہا ہے۔ یوسف پٹھان نے ویڈیو جاری کر کہا کہ ’’ہیلو دوستو، میں آپ سب کے ساتھ ایک بات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ کئی دنوں سے یہ خبر وائرل ہو رہی ہے کہ ممتا بنرجی نے یوسف پٹھان سے بہرام پور لوک سبھا حلقے کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کو کہا ہے۔ تاکہ وہ لوک سبھا انتخاب لڑ سکیں۔‘‘
ٹی ایم سی لیڈر اپنی ویڈیو میں مزید کہتے ہیں کہ ’’ممتا بنرجی نے مجھ سے ایسا کبھی کچھ نہیں کہا۔ گزشتہ میٹنگ میں بھی انہوں نے ایسا نہیں کہا، نہ ہی انہوں نے پارٹی کے کسی بھی لیڈر کو یہ بات مجھے بتانے کے لیے کہا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ خبر مکمل طور سے غلط ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ ایسی کوئی آفیشیل خبر نہیں ہے، پھر بھی سوشل میڈیا اور تمام میڈیا اداروں میں اس پر بات ہو رہی ہے اور بحث چل رہی ہے۔ ممتا بنرجی یا کسی بھی پارٹی لیڈر نے مجھ سے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے نہیں کہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ اس معاملے میں سوربھ گانگولی کا نام بھی سامنے آ رہا تھا، جس پر انہوں نے تمام میڈیا اداروں کے لیے وضاحتی بیان جاری کیا۔ ایک روز قبل 6 جون کو سوربھ گانگولی نے اپنے بیان میں کہا کہ 4 جون 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ممتا بنرجی کی جانب سے یوسف پٹھان سے رابطہ کیا تھا۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے یوسف پٹھان تک یہ پیغام پہنچایا کہ وہ بہرام پور لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تاکہ ممتا بنرجی وہاں سے ممکنہ ضمنی انتخاب لڑ سکیں۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یوسف پٹھان اس تجویز کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ پر شائع خبر کے مطابق سوربھ گانگولی نے ان تمام دعووں کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات پوری طرح جھوٹے ہیں۔ ممتا بنرجی نے ان سے کبھی بھی یوسف پٹھان تک کسی قسم کا پیغام پہنچانے کے لیے نہیں کہا۔ نہ تو پارلیمانی سیٹ چھوڑنے کے سلسلے میں اور نہ ہی کسی دوسرے سیاسی موضوع پر ان سے ایسا کوئی مطالبہ کیا گیا تھا۔ گانگولی نے کہا کہ انہوں نے بھی کبھی یوسف پٹھان سے اس طرح کے کسی معاملے پر رابطہ نہیں کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی سطح پر متعلقہ افراد کے درمیان سیاسی معاملات میں شامل نہیں رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































