
خطابی مقابلہ اس وقت فیصلہ کن بن گیا جب امریکی گرینڈ ماسٹر ویزلی سو اپنی برتری کو برقرار نہیں رکھ سکے اور ڈرا کے بعد آرماگیڈن ٹائی بریک میں پھنس گئے۔ اس صورتحال نے پرگنا نندھا کے لیے دروازے کھول دیئے، جنہوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور فائنل راؤنڈ میں جیت حاصل کی۔ اس جیت کے ساتھ ہی پرگنا نندھا نے نہ صرف ہندوستان بلکہ شطرنج کی دنیا میں بھی اپنی مضبوط شناخت قائم کر لی ہے۔ اب وہ ان کھلاڑیوں کے منتخب گروپ میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے اس طرح کے باوقار ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ لیجنڈری وشواناتھن آنند بھی اس سے قبل یہ خطاب نہیں جیت پائے تھے۔






