سفارت کاری اور دستر خوان

AhmadJunaidJ&K News urduJune 3, 2026360 Views


غازی انتیپ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مؤثر غذائی سفارت کاری کبھی بھی عدم تحفظ کے احساس سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ یہ بانٹنے اور یکجا ہونے کی خوشی سے جنم لیتی ہے ۔ ترکیہ دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اس کے روایتی کھانے مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہیں، عثمانیہ سلطنت اور ہجرتوں کی ایک یادگار ہیں، اور اخبارات کی سرخیوں سے پرے اس ملک کی اصل روح کو سمجھنے کی ایک کھلی دعوت ہیں۔

فوٹو: افتخار گیلانی

جنوب مشرقی ترکیہ کے شہر ’غازی انتیپ‘میں کھانا صرف پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے ایک خاص حکمت عملی اور تزک و احتشام کے ساتھ میدان عمل میں اتارا جاتا ہے۔ ابھی آپ پہلے تھال کی تعریفوں کے پُل باندھ ہی رہے ہوتے ہیں کہ ایک اور ڈش نمودار ہو جاتی ہے۔

پھر اس کے بعد ایک اور! شروعات میں ہی مٹیالے برتنوں میں گاڑھا اور ٹھنڈا دہی آتا ہے، جس میں جڑی بوٹیاں اور ننھے منھے کوفتے تیر رہے ہوتے ہیں، پھر یکے بعد دیگرے لاہماجون یعنی ترک پیزا، کباب کی کئی قسمیں، بھنی ہوئی مرچیں، پستے کی مٹھائیاں اور قہوہ دسترخوان کی زینت بنتے ہیں۔

اور آخر میں بکلوا  کی ایسی مسحور کن قسم پیش کی جاتی ہے کہ انسان ایک لمحے کے لیے ماضی میں کھائے گئے تمام میٹھوں کو فراموش کر دینے پر مجبور ہو جائے۔

میں انقرہ اور استنبول میں مقیم  غیر ملکی صحافیوں کے ایک چھوٹے سے وفد کے ہمراہ اس جنوب مشرقی ترک شہر میں ’گیسٹرو ڈپلومیسی ماڈل: دسترخوان اور ثقافتی ورثہ‘  کے نام سےایک تقریب کو کور کرنے پہنچا تھا۔

اس دورے کا  اہتمام ترک حکومت کے محکمہ اطلاعات نے کیا تھا۔ اس تقریب کو ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان کی سرپرستی حاصل تھی۔

اس تقریب کے لیے غازی انتیپ کا انتخاب یوں ہی نہیں تھا بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ یہ شہر ترکیہ کاغذائی دارالحکومت کہلاتا ہے؛ ایک ایسا شہر جس کی شناخت اس کے مطبخ، بازاروں، تانبے کے برتنوں، پستوں اور تجارت کی قدیم شاہراہوں سے اس طرح جڑی ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

اس شہر کومغرب کا سمرقندبھی کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ اس کے قدیم محلوں اور کوچوں سے گزرتے ہیں، حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔

یہ وہ شہر ہے جسے قدیم دور سے شاہراہِ ریشم نے تراشا اور سنوارا ہے؛ جہاں اناطولیہ، میسوپوٹیمیا، شام، فارس اور عرب دنیا کے درمیان آنے جانے والے قافلے چاہے تاجر، مسافریا  لشکر ہو ملتے تھے۔ مصالحے، اناج، داستانیں اور کھانوں کی تراکیب اسی راستے سے سفر کرتے ہوئے اس شہر میں پہنچتی تھیں۔

حسن کلیونجو یونیورسٹی میں شعبہ گیسٹرونومی اور کیولنر آرٹس کی فیکلٹی ممبر، ڈاکٹر فلیا ہارپ چیلک کے مطابق، اس شہر کو اپنی تاریخ، جغرافیہ اور مالامال روایتی کھانوں کی بدولت ایک قدرتی اور منفرد برتری حاصل ہے۔

ڈاکٹر فلیا ہارپ چیلک، فوٹو: افتخار گیلانی

یہاں کے قدیم بازاروں میں تانبے کے کاریگر آج بھی اپنے ہاتھوں سے چھینیاں اور ہتھوڑیاں چلا کر تھالیاں اور دیگر برتن تیار کرتے ہیں۔

ابھی تک کھانا بنانے سے پروسنے تک تانبے کے برتنوں کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ شہر کی دکانیں خشک مرچوں، پستوں، جڑی بوٹیوں اور مٹھائیوں سے اٹی پڑی ہیں۔ تندوروں اور انگیٹھیوں سے دھواں ہولے ہولے فضا میں بلند ہوتا ہے۔

بکلوا کا مانڈا اس حد تک باریک بیلا جاتا ہے کہ وہ تقریباً شفاف نظر آنے لگتا ہے۔ اس شہر کا مشہورِ زمانہ پستہ اس کے خمیر میں استعمال ہوتا ہے۔

اس شہر میں دنیا کا سب سے قدیم قہوہ خانہ آباد ہے۔ تاریخی تحمیس کافی ہاؤس  سنہ 1635 سے گاہکوں کی تواضع کررہا ہے۔ اس کے پرانے لکڑی کے بنے ہوئے اندرونی حصے میں آج بھی ترک قہوہ تانبے کے چھوٹے چھوٹے پیالوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

تاریخی تحمیس کافی ہاؤس، فوٹو افتخار گیلانی

یہاں بیٹھ کر انسان ماضی کے ان تاجروں، داستان گوؤں اور مسافروں کا تصور کرنے لگتا ہے جو صدیوں پہلے یہاں بیٹھتے ہوں گے، قیمتوں پر تکرار کرتے ہوں گے، سیاست پر بحث کرتے ہوں گے اور ایک دوسرے کو اپنے سفر کی روداد بھی سناتے ہوں گے۔

پہلے ہی دن غازی انتپ کے گورنر کمال چے بیر نے بتایا کہ اگر دنیا ایک گھر ہے، تو اس گھر کا باورچی خانہ غازی انتیپ ہی ہے۔

شروع شروع میں تو ان کی بات اپنے شہر پر حد سے زیادہ فخر اور مبالغہ آرائی محسوس ہوئی، لیکن چند دن گزارنے کے بعد احساس ہوا کہ  غازی انتیپ صرف کھانا پکاتا ہی نہیں ہے، بلکہ وہ پکوان کے ذریعے اپنی تاریخ اور یادوں کو زندہ رکھتا ہے۔

غازی انتپ کے گورنر کمال چے بیر، فوٹو: افتخار گیلانی

غذائی امور کی مصنفہ اور محقق اوزدین اوزبونجواولو نے بتایا کہ اس شہر کے کھانوں کو یہاں کے جغرافیہ، تجارت اور موسم نے تراشا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ لاہماجون کا ذائقہ اور انداز گرمیوں اور سردیوں میں بدل جاتا ہے۔

ترکیہ کے لیے غازی انتیپ کا یہ ایونٹ محض کباب، بکلوا اور پستے کھانے اور کھلانے کے جشن منانے تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ اس کا مقصد  وسیع تر عالمی منظرنامے پر ترک کھانوں کو ایک اہم سافٹ پاور کے بطور ر پیش کرنا تھا۔

دنیا بھر کے ممالک اب یہ جان چکے ہیں کہ اثر و رسوخ کا راستہ ہمیشہ فوجی اڈوں، تجارتی معاہدوں یا سربراہی اجلاسوں میں دیے گئے سخت بیانات سے ہو کر نہیں گزرتا۔ کبھی کبھی یہ راستہ انسان کے معدے سے ہو کر بھی گزرتا ہے۔

اٹلی نے طویل عرصے تک پاستا، زیتون کے تیل اور ایسپریسو کے ذریعے راج کیا ہے۔ فرانس نے اپنے کھانوں کو ایک تہذیبی دعوے میں بدل دیا ہے۔ جاپان نے سوشی، چائے اور رامن کو اپنی ثقافتی برآمدات کا درجہ دے دیا۔

جنوبی کوریا نے قیمچی، کورین باربی کیو اور ‘ہانسیک’ کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی۔ تھائی لینڈ نے بین الاقوامی سطح پر تھائی ریستورانوں کو پھیلانے کے لیے سرکاری سرپرستی میں کھانوں کی تشہیر کا سہارا لیا ہے۔

چین تو شاہی دور سے ہی ضیافتوں کو ایک ڈرامائی انداز اور حال ہی میں ایک نپے تلے سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔

اب ترکیہ بھی اس میدان میں پورے رعب اور مضبوط پوزیشن کے ساتھ اتر رہا ہے۔ اس کے کھانوں کو تاریخی گہرائی اور جغرافیائی وسعت کا فائدہ دستیاب ہے جس میں وسطی ایشیا کی یادیں، عثمانیہ سلطنت کے شاہی محلات کی روایتیں، بحیرہ روم کی پیداوار، بلقان کے اثرات، عرب دنیا کے ذائقے، اناطولیہ کے اناج، اسلامی غذائی آداب اور عثمانیہ نظام کے تحت یا اس کے شانہ بشانہ زندگی گزارنے والی ان گنت برادریوں کی عادات و اطوار رچے بسے ہیں۔

ڈاکٹر چیلک بتا رہی تھی کہ جب بات گیسٹرو ڈپلومیسی یعنی غذائی سفارت کاری کی ہو تو ترکیہ کئی محاذوں پر دنیا کو متحد کر سکتا ہے، کیونکہ روایتی سفارت کاری میں وہ ہمیشہ سے ایک ثابت قدم ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے اور اس کے پاس ایک انتہائی امیر اور متنوع غذائی ثقافت موجود ہے۔

جب ڈاکٹر چیلک یہ بتا رہی تھی، تو میرا ذہن ہندوستان کی طرف لوٹ رہا تھا۔ جو ملک دنیا کی سب سے زیادہ متنوع غذائی تہذیب کا مالک ہے، مگر اس کی موجودہ حکومت اپنے کھانوں کو شان و شوکت کے ساتھ دکھانے میں ہچکچاہٹ، بلکہ شرمندگی کا شکار نظر آتی ہے۔

کرتولش کامی مسجد

حیدرآبادی بریانی سے، لکھنؤ کے کبابوں سے لے کر کیرالہ کی مچھلی کے سالن فش کری تک، بنگالی سرسوں والی ہلسا مچھلی سے لے کر چیٹیناڈ پیپر چکن تک، گوا کے ونڈالو سے لے کر پنجابی تندوری کھانوں تک، راجستھانی لال ماس سے لے کر آسام کے بانس کی کونپلوں سے تیار کردہ پکوانوں تک، اور موپلا طباخی سے لے کر اودھی قورمے تک، ہندوستان کے پاس ذائقوں کا ایک ایسا وسیع و عریض سلسلہ ہے جس کا مقابلہ دنیا کے گنتی کے چند ممالک ہی کر سکتے ہیں۔

حتیٰ کہ ہندوستان کی سبزی خور ویجیٹیرین روایتیں بھی حیرت انگیز طور پر رنگ برنگی اور متنوع ہیں۔مگر اس کے باوجود موجودہ دور میں ہندوستان کی سفارتی ضیافتیں، کھانوں سے زیادہ زرعی نمائشیں معلوم ہوتی ہیں۔

چند سال قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے  راشٹرپتی بھون میں ان کے اعزاز میں دی گئی ضیافت کے بعد اپنے ہوٹل واپس پہنچ کر الگ سے کھانا آرڈر کیا۔

اسی طرح کی چہ میگوئیاں اور سرگوشیاں دیگر دورہ کرنے والے وفود کے حوالے سے بھی سفارتی حلقوں میں گردش کرتی رہی ہیں۔ ذرائع کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ سیچلس کے صدر پیٹرک ہرمینئیر نے بھی نئی دہلی میں سرکاری ضیافت میں شرکت کے بعد اپنے کمرے میں روم سروس سے کھانا منگوایا تھا۔

ان کے میز پر سجائے گئے مینو  کی عبارت کسی نظم کی مانند معلوم ہوتی تھی۔’سفید کدو اور ناریل کا سوپ، ساتھ میں چھوٹے ایڈیاپم اور کڑھی پتے کا تیل۔ ‘ ایک اور ڈش تھی’کوشمباری مع جلے ہوئے اناناس اور دہی کے جھاگ جس کو منفرد پیشکش کا نام دیا گیا تھا۔

مینو میں اس طرح کی ڈشز کا نام ہوتا ہے جنہیں تو کٹر سبزی خور لوگوں نے بھی کبھی نہیں سنا ہے۔اصل مسئلہ سبزی خور کھانے کا نہیں ہے، بلکہ کھانے کو اس حد تک  نظریاتی طور پر اس قدر بوجھل بنانا ہے کہ مہمان کو یہ محسوس ہونے لگے کہ وہ کھانا نہیں، بلکہ حکومت کا کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن یا پریس ریلیز چبا رہا ہے۔

ایک وقت تھا جب ہندوستان غذائی سفارت کاری کی نزاکتوں کو فطرتی طور پر سمجھتا تھا۔ اس کی شاید سب سے عمدہ مثال دسمبر 1955 میں سوویت یونین کے رہنما نکلیتا خروشچیف کا دورہِ سری نگر ہے۔

وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ خروشچیف کے دورہِ ہندوستان میں کشمیر بھی شامل ہو، جس کی باز گشت ان دنوں اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں سنائی دیتی تھی۔1947 سے 1955  تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی اراکین نے کشمیر میں رائے شماری کروانے پر اتفاق رائے ظاہر کیا تھا۔

سری نگر میں، جموں و کشمیر کے اس وقت کے نہرو کی ایما پر وزیراعظم بخشی غلام محمد نے روایتی کشمیری گرمجوشی کے ساتھ سویت مہمانوں کی  میزبانی کی اور ایک ایسا وازوان سجا دیا جو سفارتی تاریخ کے لوک ورثے کا حصہ بن گیا۔

اس دورے کی سب سے مشہور تصویر میں بخشی غلام محمد کو خروشچیف کو اپنے ہاتھ سے دہی اور مصالحوں میں پکا ہوا  لذیذ کشمیری میٹ بال یعنی ’گوشتابہ‘کھلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس واقعہ کے فوراً بعد، سوویت یونین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کو ویٹو کرنا شروع کر دیا۔

بلاشبہ، تاریخ صرف ایک گوشتابے سے نہیں بدلی تھی۔ عالمی طاقتیں اپنی پالیسیاں محض اس لیے نہیں بدلتیں کہ انہیں بہت اچھا کھانا کھلایا گیا تھا، اگرچہ کچھ کشمیری آج بھی اس بات پر اصرار کر تے ہیں کہ گوشتابہ کے عوض کشمیر کو بیچا گیا۔ مگر یہ سچ ہے کہ سلیقہ سے پروسا گیا کھانا سخت سے سخت دلوں کوپگھلا سکتا ہے۔

 موجودہ سیاسی ماحول نے ہندوستان کی بہت سی بہترین غذائی روایتوں کو سرکاری سطح پر پیش کرنا مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ وہ مسلم، مغل، علاقائی، قبائلی، عیسائی، ساحلی، یا گوشت خور ثقافتوں سے وابستہ ہیں۔اس کے برعکس غازی انتیپ اس حقیقت سے کبھی انکار نہیں کرتا ہے کہ اس کے کھانوں کو عربوں، عثمانیوں، اناطولیوں، کردوں، آرمینیائی باشندوں، تاجروں، پناہ گزینوں، کاریگروں، مسلمانوں، سلطنت اور تجارت نے مل کر تراشا ہے۔

سفارت کاری میں، باریکیاں اور تفصیلات ہمیشہ یاد رہ جاتی ہیں۔ ایک دورہ کرنے والا رہنما کسی مشترکہ بیان کا دوسرا پیراگراف شاید بھول جائے، لیکن اسے یہ ہمیشہ یاد رہے گا کہ رات کا کھانا گرمجوشی سے بھرپور تھا یا روکھا اور بے رونق تھا۔

مرحوم سفارت کار ستیندر لامبا کرغزستان کے حوالے سے ایک لاجواب قصہ سنایا کرتے تھے، جہاں ایک بار صدر عسکر اکایف کی طرف سے ضیافت میں انہیں دنبے کی آنکھ پیش کی گئی۔ سفارتی آداب کا تقاضہ تھا کہ وہ اسے نگل جائیں۔ جب بعد میں ان سے پوچھا گیا کہ اس کا ذائقہ کیسا تھا، تو وہ میزبان کی توہین تو کر نہیں سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کے ذائقے کی تعریف کر دی۔

اس پر باغ باغ ہو کر، خوش طبع صدر نے انہیں ایک اور آنکھ پیش کر دی۔ لامبا صاحب کی وہ اندرونی بے چینی اور مصلحت سفارت کاری کے طنز و مزاح کا ایک لافانی حصہ بن گئی۔

اس لئے اگر نئی دہلی آنے والے غیر ملکی مندوبین ضیافتوں کے بعد ان، ان سنے کھانوں کی تعریفیں کرتے ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ وہ صرف سفارت کاری کے آداب نبھا رہے ہیں، ورنہ وہ دل میں صلواتیں سنار ہے ہوتے ہیں اور ہوٹل جاکر اصلی کھانا کھانے کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں۔

غازی انتیپ قلعہ

 ترکیہ کا غازی انتیپ اپنے کھانوں کو ایک زندہ جاوید ثقافت کے طور پر پیش کرنے کے اعتماد کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان، طباخی کی ایک وسیع تر کائنات کا مالک ہونے کے باوجود، اپنے کھانوں کو تیزی سے ایک کنٹرول شدہ اور ہندو توا کے بیانیہ کا شکار کر رہا ہے۔

غازی انتیپ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے مؤثر غذائی سفارت کاری کبھی بھی عدم تحفظ کے احساس سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ یہ بانٹنے اور یکجا ہونے کی خوشی سے جنم لیتی ہے۔

ترکیہ دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اس کے روایتی کھانے مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہیں، عثمانیہ سلطنت اور ہجرتوں کی ایک یادگار ہیں، اور اخبارات کی سرخیوں سے پرے اس ملک کی اصل روح کو سمجھنے کی ایک کھلی دعوت ہیں۔

شاید، سفارتی فہم و فراست کے تاریخی ریکارڈز میں کہیں نہ کہیں، بخشی غلام محمد کی روح اب بھی ہاتھ میں گوشتابہ تھامے دہلی کو یہ یاد دلا رہی ہے کہ تاریخ کا رخ کبھی کبھار اس بات سے نہیں بدلتا کہ میز کے آر پار کیا گفتگو ہوئی، بلکہ اس بات سے بھی بدلتا ہے کہ دسترخوان پر کیا پیش کیا گیا تھا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...