شہریوں کے گروپ نے ملک بھر میں عیسائیوں پر حملے، تشدد، بائیکاٹ اور ادارہ جاتی ملی بھگت پر تشویش کا اظہار کیا

AhmadJunaidJ&K News urduJune 3, 2026360 Views


دہلی میں منعقدہ پیپلز ٹریبونل میں ملک بھر میں عیسائیوں پر ہورہے حملے- عبادت گاہوں ، پادریوں پر حملے، سماجی اور معاشی بائیکاٹ، تدفین کے حق سے محروم کیے جانے اور گاؤں دیہات سے بے دخلی پر تشویش  کا اظہار کیا ۔ مقررین کا یہ بھی ماننا تھا کہ حالیہ دہائیوں میں عدالتی اور قانون سازی کی پیش رفت کئی معاملوں میں کمزور اقلیتوں کو خاطر خواہ  تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: ہندوستان میں عیسائیوں کے خلاف تشدد پر پیپلز ٹریبونل، جس کا انعقاد کاروان محبت اور بیدار شہریوں کے ایک گروپ نے 1 جون کو کیا، نے ملک کی مختلف ریاستوں میں عیسائی کمیونٹی کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے تشدد اور امتیازی سلوک میں تشویشناک اضافے پر شدید تشویش  کا اظہار کیا ہے۔

اس پروگرام میں ملک بھر میں عیسائیوں پر ہونے والے حملے میں  وسیع پیمانے پر تشدد، سماجی بائیکاٹ اور ادارہ جاتی ملی بھگت کے شواہد پیش کیے گئے۔ یہ ٹریبونل ایک وسیع تفتیشی عمل کا اختتام تھا، جس کے تحت اپریل 2026 میں چھتیس گڑھ اور مئی 2026 میں اڑیسہ میں علاقائی دورے اور عوامی سماعتیں منعقد کی گئی تھیں۔

ان دوروں کے دوران ٹریبونل کے ممبران نے سینکڑوں متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور عیسائی برادریوں- بالخصوص آدی واسی اور دلت آبادی، کے خلاف تشدد، سماجی بائیکاٹ اور آئینی حقوق سے محرومی کے پیٹرن کو دستاویزی شکل دی۔

یکم جون کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ٹریبونل میں اتر پردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات اور اڑیسہ سے تشریف لائے نمائندوں اور متاثرین نے اپنے تجربات بیان کیے۔ کارروائی کے دوران عبادت گاہوں، پادریوں اور مذہبی رہنماؤں پر حملوں، سماجی اور معاشی بائیکاٹ، تدفین کے حق سے محروم کیے جانے،  گاؤں دیہات سے بے دخلی، ہندوتوا تنظیموں کے رول اور سیاسی رہنماؤں، پولیس اور عدالتی اداروں کے طرز عمل کا جائزہ لیا گیا۔

مقررین نے تبدیلی مذہب کے خلاف قوانین کے نفاذ اور قانونی چارہ جوئی کے لیے متاثرین کو درپیش مشکلات پر بھی تشویش  کااظہار کیا۔

پروگرام میں سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن جان دیال نے عیسائیوں کے خلاف موجودہ تشدد کو ایک وسیع تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہوئے گجرات میں ہوئے حملوں، اڑیسہ میں گراہم اسٹینس اور ان کے دو بیٹوں کے قتل، کندھمال تشدد کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی اور تباہی کو یاد کیا۔ انہوں نے آگاہ  کیا کہ ضمیر کی آزادی، مذہبی آزادی اور مساوی شہریت کی آئینی ضمانتیں تیزی سے خطرے میں پڑ رہی ہیں۔

وہیں، اے سی مائیکل نے دعائیہ اجتماعات اور عبادت گاہوں کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی کے معمول بن جانے پر تشویش  کااظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن مذہبی عبادت کو مسلسل عوامی نظم و نسق اور قومی مفاد کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قانونی اقلیتی اداروں میں عیسائی کمیونٹی کی نمائندگی کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

سماجی بائیکاٹ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سجو تھامس نے عیسائیوں کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ، بے دخلی اور معاشرے سے الگ تھلگ کیے جانے پر زور دیا- خاص طور پر ان خاندانوں اور آزاد برادریوں کے لوگوں کے حوالے سے جنہوں نے حال ہی میں عیسائیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیونٹی وسائل تک رسائی سے محروم کرنا، سماجی علیحدگی، نقل مکانی اور تدفین کے حق پر پابندیاں اب دباؤ اور کنٹرول کے ذرائع بن چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آدی واسی برادریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین، جن میں ’پنچایت (ایکسٹینشن ٹو شیڈولڈ ایریاز) ایکٹ‘(پیسہ)بھی شامل ہے، کو کس طرح غلط استعمال کرکے عیسائی آدی واسیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے حقوق محدود کیے جا رہے ہیں۔

چھتیس گڑھ سے آئے ڈگری چوہان نے تشدد کے حقیقی پیمانے اور حکومت کے  ردعمل کے درمیان فرق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال سینکڑوں واقعات سامنے آنے کے باوجود درج ایف آئی آر کی تعداد بہت کم ہے۔ انہوں نے تحقیقات میں تاخیر، پولیس کی بے عملی اور متاثرین کو انصاف دلانے میں ادارہ جاتی ناکامیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، مسئلہ صرف تشدد نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکامی یا بے حسی بھی ہے۔

جن شنوائی کے دوران متاثرین نے دعائیہ اجتماعات پر حملوں، تبدیلی مذہب مخالف قوانین کے تحت من مانی گرفتاریوں، دھمکیوں، سماجی بائیکاٹ، جبراً نقل مکانی، عبادت گاہوں کو بند کرانے، معاشی بائیکاٹ اور منظم گروہوں کی جانب سے خوف پیدا کرنے سے متعلق تجربات شیئر کیے۔

سینئر صحافی اور دانشور پامیلا فلپوز نے کہا،’شنوائی میں پیش کی گئی گواہیاں ہمارے دور کے بڑے المیے اور تشویش کو ظاہر کرتی ہیں۔ ‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی نفرت اور بائیکاٹ کا مقابلہ عوامی شمولیت اور یکجہتی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

وہیں،عرفان علی انجینئر نے کہا کہ’گھر واپسی‘اور تبدیلی مذہب سے متعلق ڈسکورس اکثر دباؤ اور امتیاز کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

سیدہ حمید نے خاص طور پر عیسائیوں کو بار بار تدفین کے حق سے محروم کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسے سب سے زیادہ غیر انسانی اور توہین آمیز امتیازی سلوک میں سے ایک قرار دیا۔

ہرش مندر نے کہا کہ یہ واقعات بائیکاٹ کی ایک منظم مہم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر تدفین کے حق سے محرومی، سماجی بائیکاٹ، جبراً نقل مکانی اور مذہبی عبادت گاہوں پر حملوں سے متعلق گواہیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ آئین کی جانب سے دی گئی بنیادی آزادی مسلسل کمزور ہو رہی ہیں۔

مقررین نے تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ دہائیوں میں ہونے والی عدالتی اور قانون سازی کی پیش رفت، کئی معاملوں میں کمزور اقلیتوں کو خاطرخواہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے اکثریتی عدم برداشت کے معمول بننے اور مذہبی آزادی اور جمہوری شہری حیثیت کے لیے محدود ہوئے دائرے کے بارے میں آگاہ کیا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...