
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ گوگل کے ڈیٹا سینٹر منصوبے، جیو میں میٹا اور گوگل کی سرمایہ کاری اور دیگر تزویراتی سرمایہ کاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی سرمایہ اب بھی ہندوستان کا رخ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل پیمانے کے منصوبوں کے لیے ہندوستان میں آنا اور گہری مینوفیکچرنگ میں صبر کے ساتھ طویل مدتی سرمایہ لگانا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔ ہندوستان کو ایسی پائیدار ایف ڈی آئی درکار ہے جو مستقل بنیادوں پر صنعت اور پیداوار کو فروغ دے، نہ کہ صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے والی عارضی سرمایہ کاری۔
اس تناظر میں روپیہ محض اسکرین پر نظر آنے والی ایک عدد نہیں ہے۔ یہ تیل پر انحصار، سونے کی درآمدات، بیرونی مالی وسائل کی دستیابی، پورٹ فولیو سرمایہ کاری، گھریلو بازار کی قدروں اور کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ آر بی آئی اس سفر کو نسبتاً ہموار بنا سکتا ہے لیکن وہ راستے کی بنیادی سمت کو ہمیشہ کے لیے تبدیل نہیں کر سکتا۔
(مضمون نگار اجیت راناڈے معروف ماہرِ معاشیات ہیں۔ بشکریہ: بلین پریس)




