’ہند-بحرالکاہل خطے میں قابل اعتماد اور شفاف شراکت داری کی ضرورت‘، کواڈ میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بیان

AhmadJunaidJ&K News urduMay 26, 2026359 Views


وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں میں ہمارے افسران نے میری ٹائم سیکورٹی، ضروری ٹیکنالوجی، اقتصادی لچک اور ایچ اے ڈی آر جیسی انتہائی اہم چیزوں پر تعاون کو آگے بڑھایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کواڈ اجلاس (تصویر ویڈیو گریب)</p></div><div class="paragraphs"><p>کواڈ اجلاس (تصویر ویڈیو گریب)</p></div>

i

user

google_preferred_badge

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل (26 مئی) کو کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطے کو عالمی ترقی اور استحکام انجن بنے رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی کہا کہ کواڈ کو اس خطے میں سمندری سیکورٹی کو یقینی بنانے اور معاشی متبادلات کو فروغ دینے کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جن خطوں میں کواڈ مل کر کام کر رہا ہے، وہ حال ہی میں رونما ہونے والے کئی واقعات کی وجہ سے اور بھی زیادہ متعلقہ ہو گئے ہیں۔

دہلی میں منعقدہ کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے ابتدائی خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے خاص طور پر ہند-بحرالکاہل خطے میں امن اور خوشحالی لانے کے لیے قابل اعتماد اور شفاف شراکت داریوں پر زور دیا۔ اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، آسٹریلیائی وزیر خارجہ پینی وانگ اور جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے حصہ لیا۔ اجلاس کی صدارت وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کی۔

واضح رہے کہ کواڈ کا یہ اہم اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ہند-بحرالکاہل خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کو لے کر عالمی سطح پر مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ’’ہماری توجہ واضح طور پر ہند-بحرالکاہل خطے پر ہوگی جو کہ کواڈ کی مخصوص حد ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’عالمی سطح پر ہمیں سپلائی چین کی مضبوطی، کنیکٹیویٹی چوک پوائنٹس، مینوفیکچرنگ اور وسائل کے ارتکاز کے ساتھ ساتھ اہم بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیوں جیسے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک مسئلہ مزید شراکت داریوں کے لیے ایک نئی دلیل پیش کرتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں ہند-بحرالکاہل خطے میں موجود کچھ مخصوص خدشات کے بارے میں تفصیل سے بتائے بغیر ہی کہا کہ ’’اس کے لیے اسٹریٹجک اعتماد کو بڑھانے، سمندری سیکورٹی کو یقینی بنانے، معاشی متبادلات کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کے گہرے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب قابل اعتماد اور شفاف شراکت داریوں کو فروغ دے کر ہی بہترین طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ ایس جے شنکر کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں میں ہمارے افسران نے میری ٹائم سیکورٹی، ضروری ٹیکنالوجی، اقتصادی لچک اور ایچ اے ڈی آر جیسی انتہائی اہم چیزوں پر تعاون کو آگے بڑھایا ہے۔ ہم نے کئی کوششوں میں اچھی ترقی بھی کی ہے۔ میری ٹائم ڈیموکریسی، کثیر الجہتی معاشرے اور مارکیٹ اکانومی کے طور پر، ہم ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کی ذمہ داری کا اشتراک کرتے ہیں۔ اس خطے کو عالمی ترقی اور استحکام کے لیے ایک محرک بن کر رہنا چاہیے۔ ہم آج اپنی بات چیت کے ذریعے اس نکتے پر زور دیں گے، جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ یہ نتیجہ خیز اور مفید ثابت ہوگا۔

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے کواڈ کو جتنا ممکن ہو سکے مضبوط اور مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کواڈ کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطہ چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں آبنائے ہرمز کے بحران سے کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں، اسی لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی بہت ضروری ہو گئی ہے۔ ہند-بحرالکاہل میں ہم اسے یقینی بنانے میں لگے ہوئے ہیں، تمام رکن ممالک مل کر بحری نگرانی کے ذریعے یہ کام کر رہے ہیں۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ’’جب ہم ساتھ ہیں تو مضبوط ہیں۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جن خطوں میں کواڈ مل کر کام کر رہا ہے، وہ دنیا بھر میں حال ہی میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے اور بھی زیادہ متعلقہ ہو گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ کواڈ دنیا کے سامنے موجود کچھ انتہائی اہم مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے، جن میں توانائی کی سیکورٹی، جہاز رانی کی آزادی اور اہم معدنیات جیسے شعبے شامل ہیں۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...