
اومنگ سنگھار نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے 343 قبائلی طلبہ ہاسٹلوں میں 22 ہزار سے زیادہ طلبہ گزشتہ تین ماہ سے راشن کی فراہمی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مارچ، اپریل اور مئی کے دوران گیہوں اور چاول کا مختص کوٹہ جاری نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے متعدد ہاسٹل ادھار کے سہارے چل رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی راجدھانی بھوپال کے 21 ہاسٹلوں سمیت مدھیہ پردیش کے مختلف علاقوں میں قبائلی بچوں کے سامنے خوراک کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اومنگ سنگھار کے مطابق 154 درج فہرست قبائلی ہاسٹلوں میں تقریباً 10 ہزار طلبہ اور 189 درج فہرست ذات کے ہاسٹلوں میں 12 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مگر راشن کی قلت کے سبب انہیں دشواریوں کا سامنا ہے۔






