پاکستان کے خلاف یو اے ای نے پھر کی کاررروائی، دوبئی اور ابوظبی سے 2 ہزار پاکستانی نکالے گئے، سامان بھی ضبط

AhmadJunaidJ&K News urduMay 22, 2026359 Views


پاکستانی حکومت کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں 1.64 لاکھ پاکستانیوں کو عرب ممالک سے جبراً نکالا گیا ہے۔ ان میں سعودی عرب سے تقریباً ایک لاکھ اور یو اے ای سے تقریباً 64 ہزار پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

i

user

google_preferred_badge

خلیجی ممالک میں کشیدگی کے درمیان متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تقریباً 2000 پاکستانیوں کو اپنے ملک سے جبراً بے دخل کر دیا ہے۔ ان پاکستانیوں کے پیسے اور سامان ضبط کیے جانے کی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ یو اے ای کے اس قدم سے پاکستان میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے اس معاملے پر حکومت کو گھیرا، جس کے بعد شہباز شریف حکومت نے اعلان کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات خارجہ امور کی کمیٹی سے کرائی جائے گی۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے، جس کی ایک وجہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی کھل کر حمایت بتائی جا رہی ہے۔ اب یو اے ای کی ناراضگی پاکستانی عوام پر نکل رہی ہے۔ ’ڈان‘ اخبار کے مطابق یہ معاملہ پاکستانی پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ جیسے ہی پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن اراکین نے یو اے ای سے 2000 پاکستانیوں کی بے دخلی کا معاملہ اٹھایا۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ان افراد پر یو اے ای میں پہلے ظلم و زیادتی کی گئی اور پھر انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ ان کا سامان بھی نہیں دیا گیا اور رقم بھی ضبط کر لی گئی ہے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران  1.64 لاکھ پاکستانیوں کو عرب ممالک سے زبردستی بے دخل کیا گیا ہے۔ ان میں تقریباً 1 لاکھ افراد سعودی عرب سے جبکہ تقریباً 64 ہزار پاکستانی یو اے ای سے نکالے گئے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ جن افراد کو یو اے ای سے نکالا گیا، ان کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات تھے۔ بعض افراد بھیک مانگنے کے لیے یو اے ای گئے تھے، اسی لیے انہیں واپس بھیجا گیا۔ اس وقت بھی تقریباً 20 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں کام کر رہے ہیں۔ ’نیویارک ٹائمز‘ نے بھی 8 مئی کو ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے شیعہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے جو افراد یو اے ای میں کام کر رہے ہیں، انہیں ابوظبی سے نکالا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاسوسی کے خدشات کے باعث یو اے ای یہ قدم اٹھا رہا ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً 20 لاکھ پاکستانی مزدور یو اے ای میں کام کرتے ہیں، جو ہر سال تقریباً 8 ارب ڈالر اسلام آباد بھیجتے ہیں۔ اس رقم سے پاکستان کی معیشت کو بڑی مدد ملتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کو اب تک پاکستان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن ایران جنگ کے دوران پاکستان کے مؤقف نے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ یو اے ای پاکستان سے 2 وجوہات کی بنا پر ناراض بتایا جا رہا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ جنگ کے دوران پاکستان نے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کی، جبکہ یو اے ای کے حق میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ دوسری وجہ پاکستان کی ثالثی کی کوشش ہے۔ جب پاکستان نے جنگ بندی کرانے کے لیے پہل کی تو اس نے یو اے ای سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ یہ بات یو اے ای کو ناگوار گزری۔ اس کے بعد اس نے پاکستان سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے بعد میں سعودی عرب کی مدد سے یو اے ای کا قرض ادا بھی کر دیا۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...