بہار میں چوتھے مرحلے کی اساتذہ کی بحالی کو لے کر جاری تنازعہ پر آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’’بہار کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ دہی کر رہی ہے این ڈی اے حکومت‘‘ کے عنوان سے ایک طویل پوسٹ کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’بہار کے نوجوان تو وہی مانگ رہے ہیں، وہی یاد دلا رہے ہیں جو این ڈی اے نے انتخاب سے قبل ایک کروڑ نوکری کا وعدہ کیا تھا۔ پھر نوجوانوں پر اب یہ ظلم کیوں؟ ٹی آر ای-4 امتحان کا مطالبہ کرنا جرم کیسے؟ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنا گناہ کیسے؟ کیوں بہار کے نوجوانوں پر بار بار لاٹھی چارج ہو رہا ہے؟‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں آر جے ڈی رہنما مزید لکھتے ہیں کہ ’’اگر پولیس کے استعمال کا اتنا ہی شوق ہے تو این ڈی اے حکومت بدعنوانی اور جرائم روکنے لیے مجرموں کے خلاف کریں، بہار کے نوجوانوں پر بار بار یہ لاٹھی چارج برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ ٹی آر ای-4 کی ویکنسی جاری کرنے کی اس حکومت کی نیت ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہم نے اپنے صرف 17 مہینے کے دور اقتدار میں بغیر پیپر لیک کے کامیابی کے ساتھ ٹی آر ای-1 اور ٹی آر ای-2 کے تحت 2 لاکھ سے زائد اساتذہ کا تقرر کیا تھا اور ایک لاکھ 30 ہزار عہدوں پر بھرتی کا عمل شروع کروایا تھا۔‘‘
بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے مطابق 2024 اور 2025 گزر گئے، لوک سبھا انتخاب ہو گئے، اسمبلی انتخاب ہو گئے، 2 وزائے اعلیٰ اور 4 نائب وزرائے اعلیٰ بدل گئے۔ پوری کابینہ تبدیل کر دی گئی۔ این ڈی اے لیڈران کے شہزادوں کو بغیر انتخاب لڑے براہ راست وزیر کے عہدے تقسیم کر دیے گئے۔ نئی حکومت کی تشکیل کے 6 ماہ گزر گئے، لیکن اب تک ٹی آر ای-4 کی ویکنسی نہیں آئی، ٹی ای آر ای-4 سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔
تیجسوی یادو نے پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ ’’وزیر اعلیٰ اور وزراء ریلز بنا رہے ہیں، بڑے بڑے بیانات دے رہے ہیں۔ لیکن اس حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انتخاب سے قبل نوجوانوں کے سامنے ہاتھ جوڑنے والے این ڈی اے لیڈران کی حکومت میں آج امتحان کا مطالبہ کرنے پر لاٹھیاں مل رہی ہیں۔ این ڈی اے کے اس فریب کو بہار کے نوجوان کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘

































