سوال صرف ایک امتحان کا نہیں، پورے بوسیدہ تعلیمی نظام کا ہے

AhmadJunaidJ&K News urduMay 21, 2026358 Views


سال 2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر  لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا، نواسی بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا، یا اسے ہونے دیا۔

نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ-یو جی 2026 امتحان ردکیے جانے کے بعد مبینہ پیپر لیک کے خلاف این ٹی اے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آئیسا کے کارکن۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

سال 2026 کے ’نیٹ‘ امتحان کا پیپر لیک ہونا محض ایک انتظامی لغزش یا ناکامی نہیں، بلکہ یہ ملک کے پورے امتحانی نظام کی کمزور اور کھوکھلی بنیادوں اور امتحانات منعقد کرنے والے ادارے ’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی‘ (این ٹی اے) کی مشتبہ کارکردگی کا کھلا ثبوت ہے۔ اس واقعے نے حکومت کے نقل سے پاک امتحانات کے دعووں اور ’پریکشا پہ چرچا‘ کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔

اس مہا- گھوٹالے نے نہ صرف ملک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہندوستان کا مستقبل اب پرائیویٹ ایجنسیوں کے بھروسے ٹھیکے پر چلے گا، بلکہ خبر سامنے آتے ہی چھ معصوم طلبہ کی خودکشی نے پورے معاشرے کو شدید صدمے اور بدقسمتی کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

اس واقعے کے خلاف اے آئی ایس ایف، این ایس یو آئی، آئیسا، ڈی ایس ایف، اے ایس اے پی، یوتھ کانگریس اور ایس ایف آئی سمیت متعدد طلبہ تنظیمیں سڑکوں پر ہیں۔ ان تنظیموں نے این ٹی اے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ہی  وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اور احتجاج کے دوران مظاہرین نے وزیر تعلیم کی رہائش گاہ پر نقلی نوٹ اُڑا کر موجودہ نظام کی بدعنوانی، لالچ اور تعلیمی بدحالی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

پارلیامنٹ سے لے کر سڑک تک اسے سرکاری افسران، کوچنگ سینٹروں اور ایجوکیشن مافیاؤں کا ایک ’منظم جرم‘قرار دیا جا رہا ہے، جہاں جانچ کے نام پر صرف’چھوٹے پیادوں‘ کو قربانی کا بکرا بنا کر’بڑی مچھلیوں‘ کو تحفظ فراہم کیاجاتا ہے۔ اس قومی بحران کے درمیان، وزیر تعلیم کی جانب سے این ٹی اے کو کلین چٹ دیتے ہوئے 40 منٹ کی نمائشی  پریس کانفرنس میں دوبارہ امتحان کی بات کہنا حکومت کے اس بے حس اور مایوس کن رویے کو ظاہر کرتا ہے، جس نے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔

امتحانی نظام: سوالات اور خدشات

ہندوستان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے، اور پھر بھی مئی 2026 میں ہم ایک ایسےمسخ شدہ منظرنامے کے سامنے کھڑے ہیں: 22 لاکھ ہندوستانی نوجوان ، جن میں اکثریت غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، ایک صبح بیدار ہوتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ جس امتحان کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال لگا دیے، وہ رد کردیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی نے اسے بیچ دیا۔ کیونکہ کسی نے اسے خرید لیا۔ کیونکہ اس جمہوریہ میں ایک میڈیکل سیٹ کی قیمت 30 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک ہے، اور ہمارے بچوں کا مستقبل ایک ایسی کالی منڈی میں بکنے والا مال بن چکا ہے، جسے بند کرنے کی خواہش حکومت میں نظر نہیں آتی ۔

یہ کوئی حادثہ نہیں، نہ ہی کوئی استثنیٰ ہے؛ یہ ایک کمزور اور بوسیدہ نظام ہے، جو تبدیلی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے – 8 سال میں 89 پیپر لیک

سال2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا۔ نواسی  بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک رات میں خاک میں مل گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا ، یا اسے ہونے دیا۔

یہاں 2014 کے بعد ہونے والے بعض پیپر لیک کی فہرست کا جدول پیش کیا جا رہاہے؛

امتحان / بھرتی کا نام سال اور مہینہ
اے آئی پی ایم ٹی پیپر لیک جون 2015
ایس ایس سی سی پی او ایس آئی / اے ایس آئی تحریری امتحان لیک مارچ 2016
نیٹ 2  پیپر لیک جولائی 2016
فوج بھرتی پیپر لیک فروری 2017
ایس ایس سی ایم ٹی ایس  پیپر لیک مئی 2017
گجرات پولیس کانسٹبل بھرتی پیپر لیک دسمبر 2018
آر او / اے آر او امتحان پیپر لیک فروری 2020
نیشنل لا ایڈمیشن ٹیسٹ پیپر لیک ستمبر 2020
نیٹ پیپر لیک مئی 2021
یو پی ٹی ای ٹی  امتحان پیپر لیک نومبر 2021
جی ایس ایس ایس بی پیپر لیک دسمبر 2021
بی پی ایس سی  مشترکہ ابتدائی امتحان پیپر لیک مئی 2022
یو پی پولیس کانسٹبل بھرتی پیپر لیک فروری 2024
نیٹ  پیپر لیک مئی 2024
یو جی سی نیٹ  پیپر لیک جون 2024
نیٹ  پیپر لیک مئی 2026

اس بحران سے نمٹنے کے لیے فروری 2024 میں پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ایکٹ کے نام سے ایک قانون بھی بنایا گیا، لیکن اس کا کوئی خاص اثر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

این ٹی اے: نیشنل ٹینشن ایجنسی

جب جنتر منتر پر ایک طالبہ نے آنسو روک کر، این ٹی اے کو ’نیشنل ٹینشن ایجنسی‘کہا، تو وہ محض ہوشیاری کا مظاہرہ نہیں کر رہی تھی، بلکہ بالکل درست بات کر رہی تھی۔ آخر اُس ایجنسی کو اور کیا کہا جائے جو؛ نیٹ-یو جی 2026 کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے رد کر دیتی ہے، اپنی آٹھ سالہ تاریخ میں پہلی بار، وہ بھی اس وقت جب سی بی آئی نے لیک کی جڑ ناسک اور سیکر تک تلاش کر لی؟

سال2024میں سپریم کورٹ کے سامنے یہ دلیل دیتی ہے کہ لیک ’مقامی‘ طور پرتھا اور 23 لاکھ طلبہ کو اس کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے – اور جیت بھی جاتی ہے، امتحان ردنہیں کیا جاتا۔

این ٹی اے کی ناکامی کا ڈھانچہ اس قدر دہرایا جانے والا ہے کہ منظم، کثیر ریاستی نیٹ ورک نے 30 سے 50 لاکھ روپے  فی سیٹ میں پرچے فروخت کرنے کا ایک دھندہ کھڑا کر لیا؟

این ٹی اے  کا قیام ہندوستان میں امتحانات کے نظام کو پیشہ ورانہ بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ لیکن اس کے بجائے اس نے بدعنوانی کو پیشہ ورانہ بنا دیا۔ اس نے ایک ایسا سسٹم کھڑا کیا جہاں سب کچھ  ایک جگہ غلط ہو سکے،  اور پھر وہ بار بار، خوفناک انداز میں، بغیر کسی جوابدہی کے غلط ہوتا رہے۔ یہی ہوگا جب تعلیم کو ٹھیکے اور پرائیویٹ ایجنسیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

طلبہ کی  خودکشی سسٹم سے کچھ سوال پوچھتی ہے

نیٹ-یو جی 2026 رد ہونے کے بعد مبینہ طور پر چار طلبہ نے خودکشی کر لی۔ وہ رات کے اندھیرے میں اس وقت پڑھتے تھے جب ان کے گھر والے سو جاتے تھے۔ انہوں نے شادیاں،  تقاریب، تہوار، حتیٰ کہ اپنا بچپن تک قربان کر دیا۔ انہوں نے کوٹا، پٹنہ یا لاتور میں کوچنگ کے لیے قرض لیا۔ انہوں نے سالماتی ساخت اور انسانی جسم کی بناوٹ یاد کی، جبکہ امیر خاندانوں کے بچوں نے لاکھوں روپے دے کر پہلے ہی پرچہ حاصل کر لیا  تھا۔ اور پھر ایک صبح این ٹی اے نے اعلان کر دیا کہ یہ سب بے کار تھا۔

مظاہرہ میں شامل ایک طالبعلم نے بڑی اچھی بات کہی-’ملک میں پیپر لیک کا ذمہ دار کون ہے؟ آج طلبہ خودکشی کر رہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘ہم جواب جانتے ہیں۔ ہم ہمیشہ سے جانتے تھے۔ بس اسے نام دینے کی سیاسی خواہش نہیں ہے۔

پیپر لیک محض ایک انتظامی ناکامی یا لغزش نہیں ہے۔ یہ ایک طبقاتی جرم ہے۔ جو بچے لیک پرچے خریدتے ہیں، وہ ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو 30 سے 50 لاکھ روپے ادا کر سکتے ہیں۔ اور جو بچے خودکشی کرتے ہیں، ان کے لیے امتحان غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تھا۔

پرچے بیچنے والا مافیا اس سسٹم کی سرپرستی میں کام کرتا ہے جو بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہی مجرم سمجھتی ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کو غیر ضمانتی دفعات میں گرفتار کیا جا رہا ہے اور حراست میں لیا جا رہا ہے، اور پرچہ سیٹ کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔

یہ ایسا نظام نہیں جو ناکام ہو گیا ہو، بلکہ ایسا نظام ہے جو بالکل ویسے ہی کام کر رہا ہے جیسے اسے ڈیزائن کیا گیا تھا- ان لوگوں کے لیے جو پیسہ دے سکتے ہیں۔

لیک تنتر‘: مافیا کے پس پردہ سیاسی بوسیدگی

این ایس یو آئی کے صدرونود جاکھڑنے ایک اصطلاح وضع کی جو اس دور کی پہچان بننی چاہیے؛’ لیک تنتر‘— لیک کی سرکار، لیک کے ذریعے، ان لوگوں کے لیے جو لیک سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

دس سال تک برسراقتدار جماعت نے’ڈیجیٹل انڈیا‘،’اسکل انڈیا‘ اور ’وکست بھارت 2047‘کے نعرے دیے۔ مسابقتی امتحانات، جو کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے دکانداروں کے بچوں کے لیے دستیاب واحد میرٹ پر مبنی سیڑھی ہے، انہیں منظم طریقے سے لوٹا جاتا رہا۔ نیٹ بی جے پی کے دور حکومت میں ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ چار بار لیک ہوا۔ ہر بار وزیر نے بیان دیا۔ ہر بار این ٹی اے نے انکار کیا۔ ہر بار معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا۔ اور ہر بار حکومت آگے بڑھ گئی۔

راہل گاندھی نے کہا؛’دھرمیندر پردھان نے 22 لاکھ نیٹ امیدواروں کے ساتھ غداری کی ہے۔‘ وہ ٹھیک کہتے ہیں- لیکن یہ غداری صرف ایک وزیر تک محدود نہیں۔ یہ غداری اسٹرکچرل یا ساختیاتی ہے۔

یہ اس فیصلے میں پیوست ہے جس کے تحت ہندوستان کے سب سے اہم امتحانات ایک ایسی ایجنسی کے حوالے کر دیے گئے جو جمہوری جوابدہی سے آزاد ہے، جسے جزوی طور پر اُسی کوچنگ-صنعتی نظام کے ذریعے بھرا گیا جسے اسے کنٹرول کرنا تھا، اور جسے اس حکومت کی سرپرستی حاصل ہے جس نے ڈیجیٹل چمک دمک کو حکمرانی سمجھ لیا۔

دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ یہ محض کسی پارٹی کا مطالبہ نہیں ہے۔ یہ کسی بھی فعال جمہوریت میں اخلاقی جوابدہی کا کم از کم معیار ہے۔ جب کوئی وزیر 22 لاکھ طلبہ کے امتحان کی دیانتداری کی ضمانت نہیں دے سکتا، جب وہ امتحان اس کی اپنی ایجنسی کی کمیٹی سے جڑے لیک کی وجہ سے منسوخ ہو جائے، جب طلبہ مر رہے ہوں، تو استعفیٰ سزا نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔

لیکن واضح رہے؛ ساختیاتی اصلاحات کے بغیر استعفیٰ محض ڈرامہ ہے۔ ہم یہ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ وزیر جاتا ہے، ایجنسی نام بدلتی ہے، اور مافیا امتحان کے اگلے سیزن کا انتظار کرتا ہے۔

مطالبہ: این ٹی اے کو ختم کرو

طلبہ تنظیمیں- این ایس یو آئی کی ’این ٹی اے ہلہ بول‘مہم، آئیسا، عام آدمی پارٹی کی طلبہ ونگ، یوتھ کانگریس، اور دہلی کی گرمی میں بند دروازوں کے باہر کھڑے سینکڑوں غیر سیاسی امیدوار – بھیک نہیں مانگ رہے۔ وہ وہی مانگ رہے ہیں جو ہمیشہ ان کا حق تھا؛ ایک منصفانہ امتحان۔

ملک کے خستہ حال امتحانی نظام کو بچانے کے لیے اب اصلاح یا تنظیم نو نہیں بلکہ مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کی شروعات ناقابل تلافی طور پر داغدار ہو چکی این ٹی اے کے فوری خاتمے سے ہونی چاہیے۔ اس کی جگہ ایک نئے شفاف قانونی ڈھانچے کا قیام ہونا چاہیے جس میں سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور ریاستی حکومتوں کی حقیقی نمائندگی ہو۔ جب تک یہ مستقل اور خودمختار ادارہ قائم نہیں ہو جاتا، تب تک نیٹ سمیت تمام قومی امتحان، جن سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل وابستہ ہے، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی والی کمیٹی کی براہ راست نگرانی میں کرایا جانا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ، تحقیقات کا دائرہ صرف چھوٹے مہروں تک محدود نہ رہے بلکہ سی بی آئی ان بااثر سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور کوچنگ چلانے والوں تک بھی پہنچے جو اس مافیا کو تحفظ دیتے ہیں، جیسے این ٹی اے کی کمیٹی میں شامل اس گرفتار حیاتیات کے ترجمان کے آقاؤں کی حقیقت سامنے لانا۔

اس جدوجہد میں قانون کو بغیر کسی نرمی کے سختی سے نافذ کیا جائے تاکہ ایک کروڑ روپے جرمانہ اور دس سال تک قید کی سزائیں صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ پہلی گرفتاری سے ہی زمینی حقیقت بن جائیں۔ آخرکار، اپنے حقوق اور امتحان کی شفافیت کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے نوجوان طلبہ پر درج تمام غیر ضمانتی دفعات والی جابرانہ ایف آئی آر واپس لی جانی چاہیے، کیونکہ جائز مطالبات اٹھانے والے نوجوانوں کو مجرم بنانا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ خوف و ہراس کی سیاست ہے۔

تو پھر کیا ہونا چاہیے

ہر سابقہ پیپر لیک ایک ہی اسکرپٹ پر چلا: غصہ، احتجاج، چھوٹی مچھلیوں کی گرفتاریاں، سپریم کورٹ کی سماعت، ایک کمیٹی رپورٹ، ایک لالی پاپ، پھر اگلا امتحان، اور پھر اگلا لیک۔ آج سڑکوں پر لڑنے والی طلبہ تنظیمیں اس اسکرپٹ سے واقف ہیں۔ اسی لیے وہ صرف تحقیقات کا مطالبہ نہیں کر رہی ہیں  بلکہ اس مشین کو توڑنے کا مطالبہ کر رہی ہیں جو ہر سال تحقیقات کی ضرورت پیدا کرتی ہے۔

حکومت کا رجحان یہی ہوگا -انتظار کرنا، مظاہرین کو تھکا دینا، 21 جون کو دوبارہ امتحان کی تاریخ مقرر کرنا اور امید کرنا کہ ضرورت کا احساس کم ہو جائے گا۔ این ٹی اے کو اگلے انتخابی سرکل تک بچائے رکھنا۔

طلبہ کا جواب ہونا چاہیے: اس بار نہیں، بہت ہو چکا!

اور باقی ہندوستان- ہر وہ ماں باپ جس نے بیماری اور غربت کے باوجود اپنے بچے کو پڑھتے دیکھا، ہر وہ استاد جس نے اپنے ذہین ترین طالبعلم کو منسوخ شدہ نتیجے سے ٹوٹتے دیکھا، ہر وہ شہری جو اب بھی یقین رکھتا ہے کہ اس جمہوریہ میں قسمت کا فیصلہ میرٹ سے ہونا چاہیے- انہیں ان طلبہ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

اور ان چار طلبہ کے لیے جو اب انصاف دیکھنے کے لیے یہاں نہیں ہیں؛ ہندوستان نے تمہیں ناکام کیا۔ یہ ناکامی آخری ہونی چاہیے۔

(اکھلیش یادو جے این یو  کےسینٹر فار ہسٹاریکل اسٹڈیز میں ریسرچ اسکالر ہیں اور  این ایس یو آئی سے وابستہ ہیں  ۔)



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...