الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کے لیے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 30, 2026361 Views


الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ایسے معاملوں میں، جہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں اور کئی بار ان کی لنچنگ تک ہو جاتی ہے، اور جہاں ملزمان کے خلاف کیس  درج نہیں ہوتے یا ٹھیک سے جانچ نہیں ہوتی-ان معاملوں میں از خود نوٹس لینے کے بجائے اُن معاملوں میں مداخلت کرتا نظر آ رہا ہے جو اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ کی ایک بنچ نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کے خلاف سخت تبصرہ کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کے اس فیصلے پر روک لگا دی ہے ،جس میں ریاست کے مدارس کی جانچ کا ذمہ اکانومک آفینس ونگ (ای او ڈبلیو) کو سونپا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وہ این ایچ آر سی کے احکامات سے’حیران ‘ہے، خصوصی طور پر اس وقت جب وہ مسلمانوں پر ہونے والے کئی حملوں اور لنچنگ کے واقعات پر خاموش رہا۔

جہاں جسٹس اتل شری دھرن نے کہا کہ ریاست اورنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ملک میں مسلمانوں پر حملوں اور لنچنگ کے معاملوں میں از خود نوٹس لینے میں ناکام رہا ہے، وہیں جسٹس وویک سرن نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن ایسے معاملوں پر توجہ دے رہا ہے جو اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔

یہ معاملہ’ٹیچرز ایسوسی ایشن مدارس عربیہ‘کی جانب سے دائر ایک عرضی پر مبنی تھا۔ اس عرضی میں اتر پردیش کے مدارس کے حوالے سے این ایچ آر سی کے جاری کردہ احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عبوری حکم میں کہا گیا،’پہلی نظر میں ، یہ عدالت این ایچ آر سی کے جاری کردہ حکم سے حیران ہے۔ این ایچ آر سی کے اختیارات، اس کا دائرہ اور اس کے کام کرنے کا میدان ’انسانی حقوق کے تحفظ کا ایکٹ، 1993‘سے طے ہوتا ہے۔‘

بار اینڈ بنچ کے مطابق، جسٹس شری دھرن نے کہا،’ایسے معاملوں میں جہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں اور کئی بار ان کی لنچنگ تک ہو جاتی ہے، اور جہاں ملزمان کے خلاف معاملے درج نہیں ہوتے یا ٹھیک سے تفتیش نہیں ہوتی—ان معاملوں میں از خود نوٹس لینے کے بجائے ہیومن رائٹس کمیشن اُن معاملوں میں مداخلت کرتا نظر آ رہا ہے جو بظاہر اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کو ایسا کوئی مثال معلوم نہیں ہے جب این ایچ آر سی نے ایسی صورتحال میں خود نوٹس لیا ہو جہاں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے لوگ ملک کے عام شہریوں کو صرف، اس لیے ہراساں کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی الگ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

جج نے کہا،’لیکن اس کے بجائے ان کے پاس ایسے معاملوں پر غور کرنے کا وقت ہے جو آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں اور جہاں مؤثر طریقے سے انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھی کسی الگ مذہب کے فرد کے ساتھ عوامی مقام پر چائے یا کافی پینا بھی خوف کی وجہ بن جاتا ہے۔

ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 226 ہائی کورٹس کو حکومت، کسی اتھارٹی یا کسی فرد کے خلاف بنیادی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے رِٹ جاری کرنے اور غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے کا اختیار دیتا ہے۔

بار اینڈ بنچ کے مطابق، تاہم جسٹس سرن ان باتوں سے متفق نہیں تھے اور انہوں نے کہا،’چونکہ پیراگراف نمبر 6 اور 7 میں کئی باتیں کہی گئی ہیں جن سے میں متفق نہیں ہوں، اس لیے میں اس حکم سے الگ رائے رکھتا ہوں، جو میرے ساتھی جسٹس اتل شری دھرن نے دیا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقدمے کے میرٹ یا این ایچ آر سی کے کردار سے متعلق کسی بھی حکم سے پہلے تمام متعلقہ فریقین کو سنا جانا چاہیے تھا۔

جسٹس سرن نے کہا،’میں اس حقیقت سے بھی واقف ہوں کہ ایک رِٹ عدالت کسی خاص فریق کی غیر موجودگی میں بھی حکم جاری کر سکتی ہے۔ تاہم، اس معاملے میں… جب کچھ مخصوص تبصرے کیے جا رہے تھے تو مناسب ہوتا کہ تمام فریقین کی عدالت میں مناسب نمائندگی ہوتی۔ فریقین کی غیر موجودگی میں منفی تبصرے نہیں کیے جانے چاہیے تھے۔‘

عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے مانگی گئی مہلت (ایڈجورنمنٹ) کو منظور کر لیا اور ریاست کے اعتراضات کو مسترد کر دیا۔معاملے  کی اگلی شنوائی 11 مئی کو متوقع ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...