راگھو چڈھا سمیت 7 عآپ اراکین پارلیمنٹ کی بی جے پی میں شمولیت نے سیاسی ہلچل میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ اس تعلق سے کانگریس نے آج اپنا سخت موقف سامنے رکھتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ ساتھ عآپ کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اجئے ماکن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر عآپ کے چہرے سے نقاب ہٹ چکا ہے، اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عآپ دراصل بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہے۔
میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے اجئے ماکن نے ریاست پنجاب کی حساسیت کا خاص طور سے ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم سبھی جانتے ہیں کہ پنجاب ملک کا ایسا صوبہ ہے جو کہ ہماری سرحد کی حفاظت کرتا ہے۔ پنجاب میں پہلے بھی علیحدگی پسند طاقتوں کو باہر سے حمایت دی جاتی تھی اور اب ایک بار پھر سے علیحدگی پسند طاقتیں سر اٹھانا شروع کر چکی ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ طاقتیں ملک کو توڑنا چاہتی ہیں۔ اب وہاں گینگ وار ہو رہے ہیں۔ ڈرون سے ڈرگ پہنچائی جا رہی ہے۔ حالات 80 کی دہائی جیسے ہو گئے ہیں۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’تاریخ گواہ رہا ہے کہ جب بھی علیحدگی پسند طاقتیں سامنے آتی ہیں تو اس سے پہلے ڈرگ آتا ہے، گینگ وار ہوتے ہیں اور پھر جرائم بڑھتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’علیحدگی پسند طاقتیں ہیں کہ ہمارے لوگوں کی آواز نہیں سنی جاتی، ہمارے لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔ اب جو سیاسی حالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ انتہائی فکر انگیز ہیں۔‘‘
اجئے ماکن نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ 7 عآپ لیڈران کی شمولیت پر اسے جواب دینا چاہیے، بتانا چاہیے کہ جس ریاست میں اسے 6.6 فیصد ووٹ حاصل ہوا ہے، وہاں سے اسے 86 فیصد اراکین راجیہ سبھا کیسے مل گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’آج بی جے پی نے ٹھیک وہی کیا ہے، جو وہ ثابت کرنا چاہتی ہے۔ پنجاب میں 2022 اسمبلی انتخاب میں 117 سیٹوں میں سے صرف 2 سیٹیں ملی تھیں۔ بی جے پی کیسے جواب دے گی جب پوچھا جائے گا کہ ایک 6.6 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی 86 فیصد اراکین راجیہ سبھا کس طرح رکھتی ہے۔‘‘
اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا کو کاؤنسل آف اسٹیٹ کہا جاتا ہے، کیونکہ ریاست کے اراکین اسمبلی ہی راجیہ سبھا کے لیے اپنے نمائندہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ ریاستی عوام نے جس تناسب میں ووٹ دیا ہوتا ہے، اسی تناسب میں پارٹیوں کے لیڈران راجیہ سبھا کے رکن بنتے ہیں۔ لیکن پنجاب سے عآپ کے راجیہ سبھا اراکین بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں، جو لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ پنجاب کے ووٹ کی قیمت کیا رہ گئی ہے؟ بی جے پی اس تعلق سے کیا جواب دے گی؟
کانگریس لیڈر اجئے ماکن نے عآپ کے خلاف تلخ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’عآپ دراصل بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہے اور عآپ لیڈران اینٹی نیشنل ہیں۔ ساتھ ہی میں کہنا چاہتا ہوں کہ عام آدمی پارٹی کو اب اپنا نام بدل کر ارب پتیوں کی پارٹی رکھ لینا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’عآپ نے دولت مندوں کو ٹکٹ دے کر اپنے خاصل لیڈروں کو دھوکہ دیا۔ پرشانت بھوشن، پروفیسر آنند، آشوتوش، کمار وشواس جیسے لوگوں کو راجیہ سبھا نہ بھیج کر دولت مندوں کو ٹکٹ دے دیا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے بی جے پی میں شامل ہونے والے ساتوں عآپ راجیہ سبھا اراکین کی ملکیت کا اندازہ کرنے کے لیے انکا حلف نامہ دیکھا، تو حیران رہ گیا۔ سبھی کی الگ الگ ملکیت کے بارے میں نہ بتا کر میں بس اتنا بتاؤں گا کہ حلف ناموں میں دی گئی جانکاری کے مطابق ساتوں کی جو ملکیت ہے، اسے جوڑ کر 7 سے ضرب دینے کے بعد 818 کروڑ 50 لاکھ 35 ہزار 420 روپے سامنے آتے ہیں۔ یعنی ساتوں کی اوسط ملکیت 818 کروڑ 50 لاکھ 35 ہزار 420 روپے ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































