
گفتگو کا آغاز ایک غیر رسمی ماحول میں ہوا جہاں راہل گاندھی نے طالبات سے ان کے تجربات اور مسائل کے بارے میں سوالات کیے۔ اس دوران کچھ طالبات نے کالج میں پیش آئے ایک تنازعہ کا ذکر کیا، جس میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے افراد نے کالج میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی۔ طالبات نے بتایا کہ اگرچہ صورتحال اچانک اور پریشان کن تھی لیکن انہوں نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا اور خوفزدہ ہونے کے بجائے حالات کو سنبھالا۔
راہل گاندھی نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں گھبراہٹ ایک فطری ردعمل ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ لوگ خود کو مضبوط بنائیں اور اجتماعی طاقت کا استعمال کریں۔ انہوں نے طالبات کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان نسل نہ صرف باخبر ہے بلکہ مشکل حالات میں بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔





