پاکستان سے ناراض ہوا ایران، امریکہ کے ساتھ مذاکرہ معاملہ میں جانبداری کا الزام کیا عائد

AhmadJunaidJ&K News urduApril 22, 2026359 Views


ایران کا ماننا ہے کہ ثالثی کا پورا ڈھانچہ اس طرح تیار کیا گیا ہے، جس سے امریکہ کو فائدہ ہو اور ایران کو سفارتی طور سے الگ تھلگ کیا جا سکے۔

<div class="paragraphs"><p>ایران اور پاکستان کا قومی پرچم</p></div><div class="paragraphs"><p>ایران اور پاکستان کا قومی پرچم</p></div>

i

user

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے امریکہ کے ساتھ مذاکرہ معاملہ میں ثالثی کرنے والے پاکستان کے کردار پر اب تک کا سب سے تلخ حملہ کیا ہے۔ ایک اہم تجزیہ کار کے ذریعہ نشر رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان چل رہے مذاکرہ میں پاکستان غیر جانبدار رہنے کی جگہ واشنگٹن کی طرف جھک رہا ہے۔ ایران سب سے زیادہ پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر کے رخ کو لے کر ناراض ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ منیر نے ایران کی تجویز امریکہ تک پہنچانے کا ذمہ لیا تھا، لیکن اب تک واشنگٹن سے کوئی واضح رد عمل نہیں ملا ہے۔

ایران کا ماننا ہے کہ ثالثی کا پورا ڈھانچہ اس طرح تیار کیا گیا ہے، جس سے امریکہ کو فائدہ ہو اور ایران کو سفارتی طور سے الگ تھلگ کیا جا سکے۔ اس عدم اعتماد نے دونوں ممالک کے درمیان حساس سفارتی تعلقات کو ایک نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق پاکستانی فوجی چیف عاصم منیر نے دورۂ تہران کے دوران ایران کی ’مسودہ تجویز‘ حاصل کی تھی۔ حالانکہ تہران کا الزام ہے کہ منیر نے اس تجویز کو امریکی فریق کے سامنے ٹھیک طرح سے پیش نہیں کیا، یا امریکہ کے رد عمل کو واضح نہیں کیا۔

ایران نے منیر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ایران سے جڑے ہیں، لیکن عوامی طور سے اور سفارتی طور سے امریکہ کے مفادات کی پیروی کر رہے ہیں۔ ایک بڑا تنازعہ ایران کے اس 10 نکاتی ڈھانچہ کو لے کر ہے، جسے امریکہ نے مبینہ طور پر درکنار کر دیا ہے۔ ایرانی تجزیہ کار کا دعویٰ ہے کہ جے ڈی وینس اور امریکی انتظامیہ اب ایران کی تجویز کے بجائے اپنی 16-15 مطالبات کی فہرست پر بات چیت کا دباؤ بنا رہے ہیں۔ تہران اسے ایک نامناسب شرط تصور کرتا ہے اور پاکستان کی تنقید کر رہا ہے کہ اس نے ایک ثالث کے طور پر ایران کے مفادات اور پہلے سے طے ڈھانچہ کی حفاظت نہیں کی۔

تہران نے پاکستان پر ’میڈیا اور نفسیاتی دباؤ‘ بنانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسلام آباد عوامی طور سے یہ تشہیر کر رہا ہے کہ بات چیت بہت جلد شروع ہونے والی ہے، جبکہ ایران نے موجودہ حالات میں مذاکرہ میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ ایران ٹی وی کے مطابق یہ پاکستان کی ایک سازش ہے، جس سے ایران کو امن کے خلاف دکھایا جا سکے اور جے ڈی وینس جیسے امریکی لیڈران کو سفارتی سبقت دلائی جا سکے۔ اس معاملہ میں ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ثالث ’بالکل درمیان میں‘ کھڑا نہیں ہوتا ہے تو پورا عمل ناکام ہو جائے گا۔ تہران کو خوف ہے کہ موجودہ نظام میں بات چیت کی میز پر بیٹھنے کا مطلب صرف امریکہ کے ذریعہ ایران کے مطالبات کو خارج کرنا ہوگا۔ پاکستان کے ذریعہ ایران کی فکر اور گزشتہ واقعات کو نظر انداز کرنا بھی اس عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...