سال بھر بعد بھی مودی حکومت نے ’سکیورٹی میں کوتاہی‘ پر وضاحت پیش نہیں کی

AhmadJunaidJ&K News urduApril 22, 2026362 Views


پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کو ایک سال بیت چکا ہے، تاہم اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ان’خامیوں‘کے بارے میں کوئی وضاحت  پیش نہیں کی ہے، جن کی وجہ سے یہ حملہ ممکن ہو سکا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ حملے کے بعد کوئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں اور کیا کسی کی جوابدہی طے کی گئی ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

سری نگر: پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے ایک سال بعد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ان’خامیوں‘کو واضح نہیں کیا ہے، جن کے باعث مسلح افراد کے ایک گروہ نے جموں و کشمیر میں شہریوں پر مہلک  ترین حملوں میں سے ایک کو انجام دیا تھا۔

اس حوالے سے حکومت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کیا کوئی اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں یا کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 24 اپریل 2025 کو مرکزی وزارت داخلہ کے افسران، جن میں انٹلی جنس بیورو (آئی بی) کے اہلکار اور دیگر شامل تھے، نے قومی دارالحکومت میں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ میں بریفنگ دی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ’کوتاہی‘ہوئی تھی، جس کے باعث دو دن قبل پہلگام کے بیسرن میدان میں قتل عام ہوا تھا۔

واضح ہو کہ گزشتہ سال 22 اپریل کو ایک انتہائی خوبصورت میدان میں ہوئے حملے میں کم از کم 25 سیاح مارے گئے تھے۔ بتایا گیا تھا کہ تین دہشت گرد جنگل کی جانب سے آئے اور انہوں نے ہندو مردوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا، اور ان کے اہل خانہ کے سامنے ایک ایک کر کے انہیں بے دردی سے قتل کر دیا۔

اس حملے میں ایک کشمیری مسلمان گھوڑا بان بھی مبینہ طور پر ایک ہندو خاتون کو بچانے کی کوشش میں مارا گیا۔

’کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ حکومت قصوروار ہے، لیکن  ‘…

اس افسوسناک واقعہ سے قبل خفیہ ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں سیاحوں پر دہشت گرد حملے کی وارننگ دی تھی، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ حملہ کہاں ہو سکتا ہے۔

کشمیر کی سابق مذاکرات کار اور’پیراڈائز ایٹ وار: اے پولیٹکل ہسٹری آف کشمیر‘کی مصنفہ رادھا کمار نے الزام لگایا کہ سکیورٹی ادارے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ممکنہ خطرے والے علاقوں کا مؤثر طریقے سے اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا،’کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ حکومت اس ناکامی کے لیے ذمہ دار ہے، لیکن لوگوں کو یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ بیسرن حملے کو مکمل طور پر کیسے نظر انداز کر دیا گیا؟‘

حملے سے دو ہفتے قبل 8 اپریل کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سری نگر میں لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا اور اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ جموں و کشمیر میں سکیورٹی امور پر اعلیٰ سطحی فیصلہ ساز ادارے یونیفائیڈ کمان (یو سی) کی میٹنگ کی صدارت کی تھی۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس میٹنگ میں سیاحوں پر دہشت گرد حملے سے متعلق خفیہ اطلاعات پر بات ہوئی تھی یا نہیں۔

کچھ دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی زیر صدارت یونیفائیڈ کمان کو خفیہ معلومات میں سنگین ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

پولیس اور مقامی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ جائزہ اور مشاورت

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق، گزشتہ سال’آپریشن مہادیو‘میں مارے گئے بیسرن کے تینوں حملہ آور قتل عام سے کم از کم دو دن پہلے پہلگام میں تھے۔

ان میں سے ایک، فیصل جٹ عرف سلیمان، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 2023 میں جموں و کشمیر میں دراندازی کر چکا تھا، 20 اکتوبر 2024 کو اسٹریٹجک زیڈ-مورہ سرنگ کے قریب ہونے والے مہلک حملے میں بھی ملوث تھا، جس میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خفیہ معلومات کے باوجود پہلگام حملے کو روکنے میں سکیورٹی نظام کی ممکنہ ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کمار نے کشمیر کے لوگوں کے تئیں بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے’رویے‘کو موردِ الزام ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا،’پولیس اور مقامی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ کتنا جائزہ اور مشاورت ہوئی، یہ ایک زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر کچھ تبادلے کے علاوہ بہت کم مشاورت ہوئی۔ وزیر داخلہ اور حکمران جماعت کا یہ رویہ کہ کسی بھی کشمیری پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کئی سکیورٹی خامیوں کا سبب بنا، جس کی وجہ سے بیسرن پر کسی کی توجہ نہیں گئی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے حکام نے گزشتہ سال 24 اپریل کو ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں کہا تھا کہ بیسرن کو کھولنے کے لیے پولیس کی اجازت’نہیں لی گئی‘تھی، حالانکہ ماضی میں بھی ایسی اجازت نہیں لی جاتی تھی۔

کمار نے کہا،’یہ مضحکہ خیز ہے۔ اس سے حکومت کی لاعلمی ظاہر ہوتی ہے اور یہ سکیورٹی میں ایک کوتاہی معلوم ہوتی ہے۔‘

اگر پولیس کی اجازت ضروری تھی، جیسا کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے، تو یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسے کیوں حاصل نہیں کیا گیا یا کیا ان افسران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے جنہوں نے طریقہ کار کو نظرانداز کیا۔

غیر محفوظ

غور طلب ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے علاقے میں ہوا جہاں فوج کی بھاری تعیناتی ہے اور جہاں سالانہ امرناتھ یاترا منعقد ہوتی ہے۔

بیسرن سے تقریباً 10 کلومیٹر سڑک کے راستے لدرو کے قریب ایک فوجی کیمپ واقع ہے، جبکہ سی آر پی ایف، جو حملے کے بعد سب سے پہلے موقع پر پہنچے تھے، کا ایک اڈہ بیسرن کے میدان سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

تاہم، سیاحوں میں مقبول ہونے کے باوجود بیسرن کو مکمل طور پر غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا اور جائے وقوعہ تک جانے والی کچی سڑک پر سکیورٹی اہلکاروں کی کوئی تعیناتی نہیں تھی، جس سے سیاحوں کی سلامتی متاثر ہوئی۔

خبروں کے مطابق، بیسرن میں تعینات سی آر پی ایف کی دو کمپنیوں میں سے ایک کو حملے سے پہلے کہیں اور منتقل کر دیا گیا تھا۔

حملے کے چند دن بعد، جموں و کشمیر پولیس نے اس افسوسناک حملے میں ملوث حملہ آوروں کے خاکے جاری کیے۔ تاہم بعد میں این آئی اے نے تصدیق کی کہ یہ خاکے غلط تھے۔

سینئر صحافی اور’دی اسپائی کرانیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوشن آف پیس‘اور دیگر کتابوں کے شریک مصنف آدتیہ سنہا نے کہا،’مجھے نہیں لگتا کہ ہم یہ بھی جان پائیں گے کہ اصل حملہ آور کون تھے۔‘

بی جے پی ہمیشہ سے کانگریس اور دیگر جماعتوں پر لاپرواہی کے لیے جوابدہی نہ لینے کا الزام لگاتی رہی ہے، لیکن آج تک کسی بھی افسر کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا۔

پہلگام سانحے کے ایک سال بعد بھی کئی سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں، جبکہ ان شہری اور سکیورٹی اداروں کے افسران کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی جو چوکسی اور بروقت اقدام کے ذریعے اس قتل عام کو روک سکتے تھے۔

آرٹیکل 370 کے بعد

پہلگام حملے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھائے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر میں امن بحال ہو گیا ہے۔

گزشتہ سال مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت اور شاہ کی موجودگی میں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ کے اختتام کے بعد مرکزی پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے صحافیوں سے کہا تھا،’پچھلے کچھ برسوں سے کاروبار اچھا چل رہا تھا، سیاح آ رہے تھے؛ اس واقعے نے اس ماحول کو خراب کر دیا ہے اور سب نے اس پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے افسران نے بھی بتایا کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور کہاں کوتاہی ہوئی۔‘

کمار نے مزید کہا کہ ہندوستان جیسے ملک میں سکیورٹی میں خامیوں کی مناسب جانچ اور جوابدہی کا تعین ہونا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ سینئر کانگریس رہنما اور اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل آخری شخص تھے جنہوں نے ذمہ داری قبول کی تھی-انہوں نے 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا،’عام طور پر’معاملے کو نظرانداز کرو جب تک لوگ بھول نہ جائیں‘والا رویہ اپنایا جاتا ہے۔ اگر اندرونی سطح پر خامیوں کی جانچ کی جائے تو اصلاحات ضروری ہو جاتی ہیں، لیکن کیا وہ اصلاحات کی گئی ہیں یا نہیں، یہ واضح نہیں ہے۔ اس کے بجائے ہم دیکھتے ہیں کہ پرانے جابرانہ ہتھکنڈے ہی اپنائے جا رہے ہیں۔‘

سنہا کے مطابق، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر، جو باضابطہ طور پر میونسپل کارپوریشن کے سربراہ ہیں، انہیں ’کم از کم تبدیل‘ کر دینا چاہیے تھا۔’ لیکن وہ اب بھی اس عہدے پر برقرار ہیں کیونکہ وہ وادی میں وزیر داخلہ کے ترجمان ہیں۔ یہ انتہائی شرمناک صورت حال ہے۔‘

کمار نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے کشمیر کے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں الگ تھلگ کر دیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد مشتبہ دہشت گردوں کے کچھ مکانات مسمار کر دیے گئے جبکہ سینکڑوں نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔

’خفیہ ایجنسیاں لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر کے کام کرتی ہیں۔ ہم ڈیجیٹل ذرائع سے مشتبہ بات چیت کا سراغ لگا سکتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت کا پتہ صرف مقامی لوگوں کے ساتھ مضبوط تعلقات بنا کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔‘

کمار نے کہا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ جب امن کی بحالی کی کوشش  اور مذاکرات جاری تھے تو وادی میں تشدد کم ہوا تھا،’لیکن ہمارے ملک کے حکمرانوں کو لگتا ہے کہ جسے سخت سکیورٹی پالیسی کہا جاتا ہے وہ دراصل آمریت ہے، اور اس سے فائدہ ہوگا۔ یہ کچھ عرصے کے لیے توکارگر ہو سکتی ہے، لیکن اس سے بے چینی بھی بڑھے گی جو آخرکار اپنا راستہ نکال لے گی، شاید فوراً نہیں مگر بعد میں۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...