تمل ناڈو میں حکومت سازی کو لے کر جاری پس و پیش والی حالت اب ختم ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ وی سی کے اور آئی یو ایم ایل دونوں نے ہی تھلاپتی وجئے کی پارٹی ٹی وی کے کو حمایت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر کا 7.10 بجے بذریعہ طیارہ کیرالہ روانگی کا پروگرام منسوخ ہو گیا ہے۔ وجئے بھی اپنے گھر سے لوک بھون کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ گورنر نے انھیں ملاقات کے لیے بلایا ہے۔
لوک بھون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر نے کیرالہ جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے، کیونکہ دیر شام وجئے سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل جب ٹی وی کے اور سی پی ایم لیدران وجئے کے لیے وقت لینے گورنر کے پاس پہنچے تھے، تب اُن سے کہا گیا تھا کہ اُن کا پروگرام پہلے سے طے ہے اور انہیں کیرالہ جانا ہے، اس لیے ملاقات کا وقت نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے میں مانا جا رہا تھا کہ اگر دورہ منسوخ نہ ہوتا اور وجئے کی گورنر سے ملاقات نہ ہو پاتی، تو حکومت بنانے کی کارروائی ادھوری رہ جاتی۔
فی الحال ٹی وی کے نے حکومت سازی کے لیے ضروری نمبر حاصل کر لیا ہے۔ ٹی وی کے کے پاس وہ خطوط بھی ہیں، جن میں وی سی کے اور آئی یو ایم ایل سمیت دیگر پارٹیوں نے اُسے حمایت دینے کی منظوری دی ہے۔ وی سی کے اور آئی یو ایم ایل (انڈین یونین مسلم لیگ)، جو پہلے سے ہی ڈی ایم کے کی اتحادی رہی ہیں، دونوں نے ہفتہ کو باضابطہ اعلان کرتے ہوئے ٹی وی کے کی بلاشرط حمایت کر دی ہے۔ اس کے بعد وجئے کے حامی اراکین اسمبلی کی تعداد اکثریت کے ہندسہ 118 کے پار پہنچ گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وجئے کو حکومت سازی کی دعوت دینے کی ذمہ داری گورنر کی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وجئے سے ملاقات کے بعد فوری طور پر حلف برداری کا وقت مل سکتا ہے۔ گورنر آرلیکر کے لیے اس وقت مصروفیات کچھ بڑھی ہوئی ہیں، اس لیے جلد ہی کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ دراصل آرلیکر کافی عرصہ سے تمل ناڈو اور کیرالہ دونوں کے گورنر کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ انہیں کیرالہ کا اضافی چارج ملا ہوا ہے۔ چونکہ کیرالہ میں بھی حکومت بنانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں، اس لیے گورنر کی ضرورت کیرالہ میں بھی ہے۔ کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف اتحاد نے جیت حاصل کی ہے اور جلد حلف برداری تقریب منعقد ہو سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ تھلاپتی وجئے گزشتہ کچھ دنوں میں تقریباً 3 بار گورنر سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ہر بار انہوں نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا، لیکن گورنر نے اسے قبول نہیں کیا۔ ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کے روانہ ہونے سے پہلے حمایت والے خطوط راج بھون میں جمع کرا دیے جائیں گے۔ اگر یہ جمع نہ ہو سکے، تو پھر اُن کے ترواننت پورم سے واپس آنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ایسے میں وجئے کی فلموں کی طرح تمل ناڈو کی پوری سیاست کا منظر بھی ڈرامائی ہو گیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































