
حکومت نے 18 اپریل کو پاور، انرجی اور معدنی وسائل ڈویژن کے ذریعے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے تحت ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 15 ٹکا، آکٹین میں 20 ٹکا، پٹرول میں 19 ٹکا اور مٹی کے تیل میں 18 ٹکا اضافہ کیا گیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار کی رات سے کر دیا گیا، جس کے بعد عوام میں بے چینی بڑھ گئی۔
رپورٹس کے مطابق نجی گاڑی مالکان، پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے افراد اور چھوٹے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایندھن کے حصول میں تاخیر کے باعث نہ صرف ان کا وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ آمدنی میں بھی نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ڈھاکہ کے علاقے میرپور سے تعلق رکھنے والے ایک رائیڈ شیئرنگ ڈرائیور عبد الکریم نے بتایا کہ پہلے وہ روزانہ 12 سے 14 ٹرپ مکمل کر لیتے تھے، مگر اب دو سے تین گھنٹے صرف قطار میں کھڑے رہنے میں گزر جاتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی تقریباً 30 فیصد کم ہو گئی ہے۔





