
پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران جمعہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل پر ووٹنگ کرتے ہوئے اراکین۔ (تصویر بہ شکریہ: سنسد ٹی وی)
نئی دہلی: لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ کھولنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔
جمعہ کی شام لوک سبھا میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
چونکہ یہ بل انتخابی ڈھانچے کی بنیادی نوعیت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ترمیم ضروری تھی۔
اس عمل کے تحت پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں ’ڈبل لاک‘ اکثریت ضروری ہوتی ہے، یعنی کل اراکین کی سادہ اکثریت اور ساتھ ہی موجود و ووٹ دینے والے اراکین کی دو تہائی حمایت۔
لوک سبھا میں 528 اراکین موجود تھے، اس لیے دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
’جمہوریت اور یکجہتی کی بڑی جیت‘
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا، ’ترمیمی بل گر گیا۔ انہوں نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی ترکیب کا استعمال کیا۔ ہندوستان نے دیکھ لیا۔ انڈیا (اتحاد) نے روک دیا۔ آئین زندہ باد۔‘
پارلیامنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا،’ہم کبھی بھی خواتین کے ریزرویشن کو ایسی حد بندی سے جوڑنے پر متفق نہیں ہو سکتے جو پرانی مردم شماری پر مبنی ہو اور جس میں او بی سی شامل نہ ہوں۔ اس لیے اس شکل میں اس بل کا منظور ہونا ممکن نہیں تھا۔ میرے خیال میں یہ ہماری جمہوریت اور ملک کی یکجہتی کی بڑی جیت ہے۔ جیسا کہ میں نے ایوان کے اندر بھی کہا، یہ آئین پر حملہ تھا اور ہم نے اسے روک دیا، جو اچھی بات ہے۔‘
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پرینکا گاندھی نے لکھا،’پارلیامنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن اس ملک کی خواتین کا حق ہے، جسے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک دن یہ حقیقت بن کر رہے گا۔ مگر بدنیتی سے اسے 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر وزیر اعظم نریندر مودی جی کا خواتین کا مسیحا بننے کا کھوکھلا دعویٰ آج ناکام رہا۔‘
संसद और विधानसभाओं में महिला आरक्षण इस देश की महिलाओं का हक है जो उनको मिलने से कोई नहीं रोक सकता। एक दिन यह हकीकत में परिवर्तित होकर रहेगा।
मगर बदनीयती से इसे 2011 की जनगणना और उस पर आधारित परिसीमन से जोड़कर प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी जी का महिलाओं का मसीहा बनने का खोखला…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) April 17, 2026
’تمل ناڈو نے دہلی کو ہرا یا‘
لوک سبھا میں تین بلوں پر ووٹنگ کے بعد تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ایکس پر پوسٹ کیا،’تمل ناڈو نے دہلی کو ہرا دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ 23 اپریل کو ریاست میں ووٹنگ کے دن’ہم دہلی کے گھمنڈ کوتوڑیں گے، اور اس گھمنڈ کا ساتھ دینے والوں کو بھی ہرائیں گے۔‘
டெல்லியை வீழ்த்தியது தமிழ்நாடு!
டெல்லியின் ஆணவத்தையும் – ஆணவத்துக்குத் துணை போகும் அடிமைகளையும் ஏப்ரல் 23 அன்று ஒருசேர வீழ்த்துவோம்!#TNWillFightTNWillWin #SayNoToNDA#Delimitation pic.twitter.com/hPevQTPTCQ
— M.K.Stalin – தமிழ்நாட்டை தலைகுனிய விடமாட்டேன் (@mkstalin) April 17, 2026
’خواتین ریزرویشن کے نام پر بل چپکے سے لانے کی کوشش کر رہی تھی بی جے پی ‘
ووٹنگ کے بعد سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا،’ہم خواتین ریزرویشن کے حق میں ہیں، مگر مخالفت اس بات کی تھی کہ بی جے پی حد بندی بل اور دیگر دفعات کو چھپا کر خواتین کے ریزرویشن کے نام پر چپکے سے لانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘
انہوں نے مزید کہا،’مردم شماری جاری ہے۔ اگر حکومت اس کے مکمل ہونے کا انتظار کرتی اور اس کے بعد اس معاملے پر آگے بڑھتی تو شاید سب اس کی حمایت کرتے۔‘
“जिस तरह भारतीय जनता पार्टी उस बिल में और चीजों को छुपा कर ला रही थी उसका विरोध था। सेंसस चल रहा है, सेंसस पूरा हो जाए, उसके बाद इस बात को आगे बढ़ाते तो शायद सब पक्ष में होते।”
– माननीय राष्ट्रीय अध्यक्ष श्री अखिलेश यादव जी pic.twitter.com/7vyxkrtU8y
— Samajwadi Party (@samajwadiparty) April 17, 2026
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ایکس پر لکھا،’پارلیامنٹ میں ڈیلمیٹیشن بل فیل ہوا۔ مودی جی کے غرور کی شکست ہوئی۔ مودی حکومت کی الٹی گنتی شروع۔ ‘
آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے ایکس پر لکھا،’کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، چاہے وہ گھڑی گئی ہو یا حقیقی۔ آج لوک سبھا میں پردے کے پیچھے جو گرا وہ خواتین کا ریزرویشن نہیں، بلکہ ایک وزیر داخلہ کے’گھریلو کچن میں تیار کردہ حد بندی‘کا خیال تھا؛ خواتین کا ریزرویشن تو کل آدھی رات کو باضابطہ طور پر پہلے ہی نوٹیفائی ہو چکا ہے۔ حکمران جماعت اور اس کے حامی میڈیا سے گزارش ہے کہ حقائق کی منتخب تشریح کرنا بند کریں۔ ’پوسٹ ٹروتھ‘ایک خطرناک ساتھی ہے جو کسی کا نہیں ہوتا۔ جئے ہند۔‘
ٹی ایم سی کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے کہا،’آج کا دن تاریخی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے خواتین ریزرویشن بل کے نام پر لائے گئے غیر قانونی اور غلط سوچ پر مبنی آئینی ترمیمی بل کو زبردست طریقے سے شکست دی ہے۔‘
Today is a historic day- the united Opposition resoundingly defeated the illegal & ill-thought out Constitutional Amendment Bill brought in the guise of a Women’s Reservation Bill. pic.twitter.com/xQ0NrVLeIE
— Mahua Moitra (@MahuaMoitra) April 17, 2026
دوسری جانب، لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا اور نعرے لگائے،’مہیلاؤں کا یہ اپمان، نہیں سہے گا ہندوستان ۔‘
VIDEO | Delhi: NDA women MPs stage a dharna in the Parliament complex after the Constitution Amendment Bill for Women Quota is defeated in the Lok Sabha; they raise slogans, ‘Mahilao Ka Ye Apmaan, Nahi Sahega Hindustan’.
(Full video available on PTI Videos -… pic.twitter.com/BO2eRlyXXX
— Press Trust of India (@PTI_News) April 17, 2026






