آئینی ترمیمی بل خارج ہونے پر اپوزیشن نے کہا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 18, 2026361 Views


لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔

پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران جمعہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل پر ووٹنگ کرتے ہوئے اراکین۔ (تصویر بہ شکریہ: سنسد ٹی وی)

نئی دہلی: لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ کھولنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔

جمعہ کی شام لوک سبھا میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

چونکہ یہ بل انتخابی ڈھانچے کی بنیادی نوعیت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ترمیم ضروری تھی۔

اس عمل کے تحت پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں ’ڈبل لاک‘ اکثریت ضروری ہوتی ہے، یعنی کل اراکین کی سادہ اکثریت اور ساتھ ہی موجود و ووٹ دینے والے اراکین کی دو تہائی حمایت۔

لوک سبھا میں 528 اراکین موجود تھے، اس لیے دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔

جمہوریت اور یکجہتی کی بڑی جیت

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا، ’ترمیمی بل گر گیا۔ انہوں نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی ترکیب کا استعمال کیا۔ ہندوستان نے دیکھ لیا۔ انڈیا (اتحاد) نے روک دیا۔  آئین زندہ باد۔‘

پارلیامنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا،’ہم کبھی بھی خواتین کے ریزرویشن کو ایسی حد بندی سے جوڑنے پر متفق نہیں ہو سکتے جو پرانی مردم شماری پر مبنی ہو اور جس میں او بی سی شامل نہ ہوں۔ اس لیے اس شکل میں اس بل کا منظور ہونا ممکن نہیں تھا۔ میرے خیال میں یہ ہماری جمہوریت اور ملک کی یکجہتی کی بڑی جیت ہے۔ جیسا کہ میں نے ایوان کے اندر بھی کہا، یہ آئین پر حملہ تھا اور ہم نے اسے روک دیا، جو اچھی بات ہے۔‘

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پرینکا گاندھی نے لکھا،’پارلیامنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن اس ملک کی خواتین کا حق ہے، جسے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک دن یہ حقیقت بن کر رہے گا۔ مگر بدنیتی سے اسے 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر وزیر اعظم نریندر مودی جی کا خواتین کا مسیحا بننے کا کھوکھلا دعویٰ آج ناکام رہا۔‘

تمل ناڈو نے دہلی کو ہرا یا

لوک سبھا میں تین بلوں پر ووٹنگ کے بعد تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ایکس پر پوسٹ کیا،’تمل ناڈو نے دہلی کو ہرا دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ 23 اپریل کو ریاست میں ووٹنگ کے دن’ہم دہلی کے گھمنڈ کوتوڑیں گے، اور اس گھمنڈ کا ساتھ دینے والوں کو بھی ہرائیں گے۔‘

خواتین ریزرویشن کے نام پر بل چپکے سے لانے کی کوشش کر رہی تھی بی جے پی

ووٹنگ کے بعد سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے کہا،’ہم خواتین ریزرویشن کے حق میں ہیں، مگر مخالفت اس بات کی تھی کہ بی جے پی حد بندی بل اور دیگر دفعات کو چھپا کر خواتین کے ریزرویشن کے نام پر چپکے سے لانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا،’مردم شماری جاری ہے۔ اگر حکومت اس کے مکمل ہونے کا انتظار کرتی اور اس کے بعد اس معاملے پر آگے بڑھتی تو شاید سب اس کی حمایت کرتے۔‘

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ایکس پر لکھا،’پارلیامنٹ میں ڈیلمیٹیشن بل فیل ہوا۔ مودی جی کے غرور کی شکست ہوئی۔ مودی حکومت کی الٹی گنتی شروع۔ ‘

آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے ایکس پر لکھا،’کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، چاہے وہ گھڑی گئی ہو یا حقیقی۔ آج لوک سبھا میں پردے کے پیچھے جو گرا وہ خواتین کا ریزرویشن نہیں، بلکہ ایک وزیر داخلہ کے’گھریلو کچن میں تیار کردہ حد بندی‘کا خیال تھا؛ خواتین کا ریزرویشن تو کل آدھی رات کو باضابطہ طور پر پہلے ہی نوٹیفائی ہو چکا ہے۔ حکمران جماعت اور اس کے حامی میڈیا سے گزارش ہے کہ حقائق کی منتخب تشریح کرنا بند کریں۔ ’پوسٹ ٹروتھ‘ایک خطرناک ساتھی ہے جو کسی کا نہیں ہوتا۔ جئے ہند۔‘

ٹی ایم سی کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے کہا،’آج کا دن تاریخی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے خواتین  ریزرویشن بل کے نام پر لائے گئے غیر قانونی اور غلط سوچ پر مبنی آئینی ترمیمی بل کو زبردست طریقے سے شکست دی ہے۔‘

دوسری جانب، لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا اور نعرے لگائے،’مہیلاؤں کا یہ اپمان، نہیں سہے گا ہندوستان ۔‘



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...