امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام پر روک لگانے کے لیے ایک جامع 15 نکاتی تجویز بھیجی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران معاہدے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یہ تجویز ثالث ممالک کے ذریعہ بھیجی گئی ہے، جس میں جنگ بندی سے لے کر علاقائی سیکورٹی کے انتظامات تک کئی اہم نکات شامل ہیں۔ یہ جانکاری ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ نے افسران کے حوالے سے دی ہے۔ ایک افسر نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جنگ بندی کا یہ منصوبہ پاکستان کے ثالثوں کے ذریعہ ایران کو سونپا گیا ہے۔
اس منصوبہ کے تحت ایران سے اس کے 3 اہم جوہری ٹھکاونوں کو بند کرنے، ملک کے اندر یورینیم کی افزودگی مکمل طور سے روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی علاقائی پراکسی گروپوں کو ملنے والی مدد روکنے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی سمندری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
تجویز میں ایک ماہ کی جنگ بندی کا مشورہ بھی شامل ہے۔ اس کے تحت ایران سے یہ تحریری یقین دہانی مانگی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور اپنے پاس موجود افزودہ ایٹمی مواد ایک مقررہ وقت کے اندر بین الاقوامی تونائی ایجنسی کو سونپ دے گا۔ اس کے علاوہ نطنز، اصفہان اور فردو جوہری مراکز کو غیر فعال کر تباہ کرنے اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔
علاقائی سطح پر ایران سے یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ وہ اپنی اتحادی تنظیموں کو فنڈ اور ہتھیاروں کی فراہمی روک دے گا۔ میزائل پروگرام سے منسلک معاملات، جیسے میزائلوں کی تعداد اور ان رینج پر آگے چل کر الگ سے بات چیت کی تجویز پیش گئی ہے۔ ساتھ ہی، ایران کی فوجی سرگرمیوں کو صرف دفاع تک محدود رکھنے کا مشورہ بھی شامل ہے۔ اس کے بدلے امریکہ نے جوہری پروگرام سے متعلق تمام پابندیاں ختم کرنے اور بوشہر ایٹمی بجلی گھر میں سویلین نیوکلیئر انرجی پروگرام کی ترقی میں تعاون کی پیشکش کی ہے، جس سے بجلی پیدا کی جا سکے گی لیکن اس پر بین الاقوامی نگرانی برقرار رہے گی۔
تجویز میں ’اسنیپ بیک‘ نظام کو ختم کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے، جس کے تحت پابندیاں خود بخود دوبارہ نافذ ہو سکتی تھیں۔ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق یہ منصوبہ کافی حد تک ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے سے طے شدہ مطالبات جیسا ہی ہے۔ جبکہ ’دی نیویارک ٹائمس‘ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ تجاویز ثالث ممالک کے ذریعے پہنچائی گئی ہیں جن میں پاکستان، ترکی اور مصر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالانکہ سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل، کویت، بحرین اور سعودی عرب سمیت کئی مقامات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسی درمیان ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ بات چیت کے ذریعے حل ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور معاہدے کے لیے تیار ہے۔ یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور فوجی و معاشی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج اپنی 82ویں ’ایئر بورن ڈویژن‘ سے کم از کم 1000 مزید فوجیوں کی تعیناتی کی تیاری کر رہی ہے تاکہ خطے میں پہلے سے موجود تقریباً 50000 فوجیوں کو مزید تقویت مل سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































