عیدالاضحیٰ سے عین قبل مغربی بنگال حکومت نے قربانی و ذبیحہ سے متعلق گائیڈلائنس جاری کر ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حکومت نے مویشیوں کو ذبح کرنے کے لیے نیا اصول جاری کیا ہے جس پر سبھی کو عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ جاری گائیڈلائنس کے مطابق اب کھلی جگہوں پر یا کسی بھی عوامی مقام پر مویشی کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مویشیوں کو ذبح کرنے کے لیے حکومت نے کئی اہم شرائط نافذ کر دی ہیں، جس کا خیال عیدالاضحیٰ کے موقع پر لوگوں کو مویشی کی قربانی دیتے وقت رکھنا ہوگا۔
حکومت نے جو گائیڈلائنس جاری کیے ہیں، اس کے مطابق گائے، بھینس، بیل اور بچھڑوں کی قربانی دینے کے لیے ایک خاص سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مویشی کو ذبح کرنے سے قبل نگر پالیکا یا پنچایت کمیٹی کے سربراہ اور سرکاری مویشی ڈاکٹر، دونوں سے مل کر تیار ایک مشترکہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اگر کوئی افسر یہ سرٹیفکیٹ دینے سے منع کرتا ہے تو آپ 15 دنوں کے اندر ریاستی حکومت سے اس کی شکایت کر سکتے ہیں۔
جاری حکم نامہ کے مطابق سڑک کنارے یا کسی بھی عوامی مقام پر مویشیوں کو مارنا پوری طرح ممنوع ہے۔ ذبیحہ صرف حکومت کے ذریعہ منظور شدہ بوچڑخانوں میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اصولوں کی خلاف ورزی کر کسی بھی مویشی کو ذبیحہ کرنے پر 6 ماہ تک کی جیل، 1000 روپے تک کا جرمانہ، یا پھر جیل اور جرمانہ دونوں ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سویندو ادھیکاری نے کئی بڑے فیصلے لیے ہیں۔ یکم جون سے بنگال میں ’اناپورنا یوجنا‘ کی شروعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ سوویندو نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ بنگال میں اب کٹمنی اور تولے بازی نہیں چلے گی۔ بدعنوانی روکنے کے لیے حکومت ہر ماہ ضلع مجسٹریٹس اور اراکین اسمبلی کی ایک ساتھ میٹنگ کرائے گی۔ چندرناتھ رَتھ قتل کیس کی جانچ کے لیے بھی حکومت نے سی بی آئی جانچ کی سفارش کر دی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































