کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں ایل پی جی سلنڈر میں 2 رسّی باندھے گئے ہیں۔ ایک رسّی کو بائیں طرف کھڑے کئی لوگ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، اور دوسری رسّی کو دائیں طرف کھڑے کئی لوگ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ ایل پی جی سلنڈر درمیان میں ہے، جو 2 گروپوں کی کھینچ تان کی زد میں ہے۔ یہ تصویر ملک کے موجودہ حالات کی بہترین عکاسی کرتا ہے، کیونکہ کئی ریاستوں میں ایل پی جی سلنڈر کے لیے مار پیٹ جیسی نوبت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حکومت ضرور دعویٰ کر رہی ہے کہ بحران جیسی حالت نہیں ہے، لیکن جو ویڈیوز اور تصویریں سامنے آ رہی ہیں وہ فکر انگیز ہیں۔
کانگریس نے ایل پی جی سلنڈر بحران والی حالت کو سامنے لانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی ریاستوں کی ویڈیوز اور تصویریں شیئر کی ہیں۔ اس اہم اپوزیشن پارٹی نے مرکز کی مودی حکومت کو ان حالات کے لیے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے اور حالات کو بہتر کرنے کا مطالبہ بھی سامنے رکھا ہے۔ ایک ویڈیو میں مختلف مقامات کی حالت کو پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید انداز میں حملہ کیا گیا ہے۔ ویڈیو کی شروعات میں کئی لوگ ’نریندر بھی غائب، سلنڈر بھی غائب‘ نعرہ لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ دراصل سلنڈر بحران تو ملک میں پیدا ہو ہی چکا ہے، نریندر مودی بھی پارلیمنٹ اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے آج پارلیمانی احاطہ میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا، جس میں ’نریندر بھی غائب، سلنڈر بھی غائب‘ نعرہ کا استعمال کیا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’ملک ایل پی جی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ گھریلو گیس کی قیمت لگاتار بڑھ رہی ہے۔ انڈسٹریل ایل پی جی کی شدید کمی ہے۔ ریسٹورینٹ بند ہو رہے ہیں۔ صنعتوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ لیکن وزیر اعظم کیا کر رہے ہیں؟ سیاسی ریلیاں، افتتاح، جملے بازی۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ملک میں سلنڈر بحران کا ریڈ الرٹ ہے، اور مودی کو ہری جھنڈی دکھانے سے فرصت نہیں۔ شرمناک!‘‘
ایک دیگر ویڈیو میں لوگوں کو ایل پی جی سلنڈر کے لیے قطار بند دکھایا گیا ہے۔ اس حالت کو کانگریس نے ’لائن لگاؤ منصوبہ‘ قرار دیا ہے۔ ویڈیو میں بیک گراؤنڈ سے آ رہی آواز میں کہا گیا ہے کہ ’’مودی حکومت 3.0 کا ’لائن لگاؤ منصوبہ‘۔ ہندوستان کے ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم نریندر مودی کی ناقابل قیادت میں پورا ملک ایک بار پھر لائن میں کھڑا ہے۔‘‘ ماضی کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’نوٹ بندی میں اے ٹی ایم کی لائن، کورونا میں آکسیجن سلنڈر کی لائن، اب ایل پی جی سلنڈر کی لائن۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ملک کے لیے ویژن صاف ہے، چھوڑ کر سارے ضروری کام، لائن میں لگے گا ہندوستان۔‘‘
کانگریس نے ایک پرائیویٹ نیوز چینل کی ویڈیو رپورٹ بھی شیئر کی ہے، جس میں سلنڈر کے لیے پریشان حال شخص اپنی مشکلات بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’4 دن سے ڈھنگ سے کھانا نہیں کھایا۔ دہی-چوڑا سے پیٹ بھر رہے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ جذباتی انداز میں وہ کہتا ہے ’’بلیک میں 10-10 سلنڈر دے رہے ہیں، ہمیں ایک بھی نصیب نہیں ہے۔‘‘ کانگریس نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ملک کی عوام بے حال ہے اور نریندر مودی نے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ ذمہ داری سے بھاگنا نریندر مودی کی پرانی عادت رہی ہے۔‘‘
ایک ویڈیو ضعیف خاتون کی بھی کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے، جو اپنی پریشانی بتاتے ہوئے زار و قطار رونے لگتی ہے۔ وہ کہتی ہے ’’مجھے 6 دنوں سے سلنڈر نہیں ملا ہے۔ حکومت کو ہمارے سامنے لاؤ، تب بتائیں گے کہ کتنی دقت ہے۔‘‘ اس ویڈیو کے ساتھ بھی کانگریس نے تلخ تبصرہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’عوام پریشان ہے، رونے کو مجبور ہے، لیکن نریندر مودی اپنی موج میں مصروف ہیں۔‘‘ ایسی کئی ویڈیوز کانگریس نے شیئر کی ہے۔ ایک ویڈیو میں الگ الگ ریاستوں میں ایل پی جی سلنڈر کے لیے قطار بند لوگوں کو دکھایا گیا ہے اور اس کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے آج صبح پارلیمنٹ احاطہ میں ایل پی جی سلنڈر بحران اور اس معاملہ میں نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا، جس کی کچھ تصویریں کانگریس نے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی تھیں اور لکھا تھا کہ ’’ملک بھر میں ایل پی جی کی قلت سے عوام پریشان ہے، لیکن نریندر مودی ذمہ داری نبھانے کے وقت پھر سے غائب ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































