مودی حکومت پر قبائلی حقوق پامال کرنے کا سنگین الزام، اڈیشہ میں کانکنی منصوبہ پر کانگریس نے کی سخت تنقید

AhmadJunaidJ&K News urduApril 28, 2026358 Views


جئے رام رمیش نے کہا کہ اڈیشہ اس بات سے ناواقف نہیں کہ کس طرح بڑے ماحولیاتی اثرات رکھنے والے کانکنی منصوبوں کو قانونی اور آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

i

user

کانگریس نے اڈیشہ میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی منصوبہ سے متعلق مودی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت پر قبائلی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین الزام بھی عائد کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری بیان میں کہا کہ اڈیشہ اس بات سے ناواقف نہیں ہے کہ کس طرح بڑے ماحولیاتی اثرات رکھنے والے کانکنی منصوبوں کو قانونی اور آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جئے رام رمیش نے کہا کہ اس سلسلے کی تازہ کڑی رائے گڑھ اور کالاہانڈی اضلاع کے سجیمالی علاقے میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی منصوبہ اور اس سے جڑی بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیاں ہیں۔ ان کے مطابق اس پورے معاملے میں پنچایت (شیڈولڈ ایریاز تک توسیع) ایکٹ (پیسا) 1996 اور فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) 2006 کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور شدہ ان قوانین کے تحت متاثرہ افراد، مقامی برادریوں اور گرام سبھاؤں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، انہیں یا تو قصداً کمزور کیا گیا یا مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ چند روز قبل جب مقامی لوگوں نے فطری طور پر احتجاج کیا تو پولیس نے خاص طور پر درج فہرست قبائلی برادریوں، بالخصوص خواتین کے خلاف نامناسب طاقت کا استعمال کیا، جو کہ ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ 1989 کی خلاف ورزی ہے۔ کانگریس رہنما نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ یہ سب کچھ اس ریاست میں ہو رہا ہے جہاں کے وزیر اعلیٰ خود ایک قبائلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر برائے قبائلی امور بھی اڈیشہ سے ہی ہیں، اس لیے ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کریں۔

جئے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ سجیمالی میں پیش آنے والے حالات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ پیسا 1996 اور ایف آر اے 2006 پر قانون اور اس کی روح کے مطابق شفاف، قابل اعتماد اور عوامی شمولیت کے ساتھ عمل کیا جائے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ قبائلی علاقوں میں ترقی کے نام پر حقوق کی پامالی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اس معاملے پر وہ حکومت کو ہدف تنقید بناتی رہے گی۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...