
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل شروع سے ہی بحث کا موضوع رہا۔ اس عمل کے دوران پورے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے تقریباً 90 لاکھ ووٹرس کے نام ہٹا دیے گئے، جو کل ووٹرس کے تقریباً 12 فیصد ہوتے ہیں۔ اس میں سے 60 لاکھ سے زائد لوگوں کو غیر حاضر یا فوت شدہ کے زمرے میں رکھا گیا، جبکہ 27 لاکھ لوگوں کا اسٹیٹس ٹریبونل کے سامنے زیر التوا رہا۔ تحقیقات کے دوران مبصرین نے پایا کہ جن لوگوں کا اسٹیٹس طے نہیں ہو پایا تھا، ان میں سے تقریباً 65 فیصد مسلم تھے، جبکہ دلت ہندو خاص طور سے ’متوآ برادری‘ کے لوگ بھی کچھ اضلاع میں کافی متاثر ہوئے۔






