اسپیکر اوم برلا کے خلاف ’عدم اعتماد کی تحریک‘ ناکام، لوک سبھا نے صوتی ووٹوں سے کیا خارج

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 11, 2026364 Views


لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی ’عدم اعتماد کی تحریک‘ صوتی ووٹ سے مسترد کر دی گئی۔ 2 دنوں تک جاری رہنے والی بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے اسپیکر کا بھرپور دفاع کیا۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف لوک سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک صوتی ووٹ سے خارج کر دی گئی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک پر لوک سبھا میں 2 دنوں تک بحث ہوئی۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اسپیکر اوم برلا کا بھرپور دفاع کیا اور اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا۔ اس تحریک کے خارج ہونے کے بعد اب اوم برلا لوک سبھا کے اسپیکر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

واضح رہے کہ لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی حمایت سے پیش کی تھی۔ تحریک کی حمایت میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر پر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کا الزام عائد کیا تھا۔ حالانکہ این ڈی اے کے لیڈران نے ان الزامات کی تردید کی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’’ایوان کا کام کاج باہمی اعتماد اور قوانین کی پابندی پر مبنی ہے۔ اسپیکر کی ذمہ داری ایوان کے ایک غیر جانبدار نگراں کے طور پر کام کرنا ہے۔‘‘

امت شاہ نے مزید کہا کہ ’’اس ایوان کی قائم کردہ تاریخ کے مطابق اس کی کارروائی باہمی اعتماد کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اسپیکر ایک غیر جانبدار نگراں کے طور پر کام کرتے ہیں، جو حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی لوک سبھا نے خاص قواعد بنائے ہیں تاکہ اسپیکر کی رہنمائی کی جا سکے کہ سیشن کیسے چلانا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق بولیں اور حصہ لیں۔‘‘

دوسری جانب اپوزیشن اراکن پارلیمٹ نے دلیل دی کہ یہ تحریک پارلیمنٹ میں اختلاف رائے کے لیے کم ہوتی جگہ پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے لائی گئی تھی۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ ابھے کمار سنہا نے کہا کہ ’’اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو اکثر لگتا تھا کہ انہیں چیئر (اسپیکر) سے مکمل تحفظ فراہم نہیں ہو رہا ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ وقت سے چیئر ایوان کی آزادی کو نہیں بلکہ حکمراں جماعت کے مظالم کی علامت بن گئی ہے۔‘‘

آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ’’اس ایوان نے وہ سیاہ دن بھی دیکھا جب ایک روز میں 140 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں سب سے غریب اور کمزور شخص کو بھی محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جا سکتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جب بھی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ایوان میں بولنے کی کوشش کرتے تھے تو چیئر کی طرف سے اکثر نہیں، نہیں، نہیں ہی دہرایا جاتا تھا۔‘‘

جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) ک رکن پارلیمنٹ وجے کمار ہنسدک نے کہا کہ ’’ایوان میں اپوزیشن کی تقریروں کے دوران رکاوٹیں آنا اب ایک عام بات ہو گئی ہے۔ جب اپوزیشن کے اراکین بولتے ہیں تو انہیں روکا جاتا ہے اور یہ اب ایک روایت بن چکی ہے۔ ایک اور روایت یہ ہے کہ جب اراکین بول رہے ہوتے ہیں، تو کیمرہ دوسری سمت موڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ این سی پی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ بجرنگ منوہر سوناونے نے کہا کہ ’’اپوزیشن کو معلوم تھا کہ تحریک شاید فیل ہو جائے گی، لیکن وہ اس بحث کا استعمال پارلیمنٹ کے اندر جمہوری حقوق کے بارے میں خدشات اٹھانے کے لیے کرنا چاہتے تھے۔‘‘

رکن پارلیمنٹ بجرنگ منوہر نے یہ بھی کہا کہ ’’کوئی بھی اسپیکر پر کوئی ذاتی حملہ نہیں کر رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ووٹنگ میں کیا ہوگا، لیکن ہم یہ عدم اعتماد کی تحریک اس لیے لائے ہیں تاکہ ہمارے پاس جو جمہوری حقوق ہیں، انہیں نمایاں کر سکیں۔‘‘ انہوں نے بحث کے دوران چیئر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے ایک ٹیبل فین صرف ایک طرف کولنگ دیتا ہے، جب اوم برلا دائیں جانب دیکھتے ہیں تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور جب ہو دوسری طرف دیکھتے ہیں تو بس نہیں، نہیں، نہیں ہی کہتے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...