مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب کے لیے تاریخوں کا اعلان الیکشن کمیشن کے ذریعہ جلد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے عین قبل بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے گزارش کی ہے کہ انتخاب 3 مراحل میں کرائے جائیں۔ مغربی بنگال میں 2021 میں ہوئے اسمبلی انتخاب 8 مراحل میں کرائے گئے تھے، لیکن بی جے پی اس مرتبہ چاہتی ہے کہ 3 مراحل میں ہی ووٹنگ کا عمل انجام پا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن کی فُل بنچ ابھی بنگال دورہ پر ہے اور انتخاب سے جڑی تیاریوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس درمیان بی جے پی کے ایک نمائندہ وفد نے 9 مارچ کو کولکاتا میں الیکشن کمیشن کی فُل بنچ سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب 3 سے زیادہ مراحل میں نہیں کرائے جانے چاہئیں۔ پارٹی کی طرف سے یہ بھی گزارش کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو مغربی بنگال میں انتخاب کے دوران کچھ ضروری قدم اٹھانے چاہئیں تاکہ کسی طرح کا تشدد نہ ہونے پائے۔
اسمبلی انتخاب سے قبل ریاست میں سیکورٹی کے حالات پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نمائندہ وفد نے الیکشن کمیشن کو اپنے 16 نکاتی مطالبہ پر مبنی خط حوالہ کیا ہے۔ اس معاملہ سے جڑے افسران نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ ساتھ دیگر الیکشن کمشنرز ایس ایس سندھو اور وویک جوشی کے ساتھ 9 مارچ کو منظور شدہ قومی سطح اور ریاستی سطح کی پارٹیوں کے نمائندہ وفود سے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ انتخاب کرانے سے متعلق ان کی فکروں اور مشوروں کو سنا جا سکے۔
بی جے پی لیڈر جگن ناتھ چٹوپادھیائے، جو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز سے ملنے والے 3 رکنی پارٹی وفد کا حصہ تھے، نے بتایا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے اسمبلی انتخاب زیادہ سے زیادہ 3 مراحل میں کرانے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی کی ایک اہم فکر ریاست میں ابھی موجودہ مرکزی سیکورٹی فورسز کی تقریباً 400 کمپنیوں کی تعیناتی اور استعمال سے متعلق تھی۔ چٹوپادھیائے نے ان سیکورٹی فورسز کو ہدایت دینے میں ریاستی پولیس کے کردار کی تنقید کی اور الزام لگایا کہ موجودہ ’کنفیڈنس بلڈنگ ترکیب‘ ووٹرس کا بھروسہ جیتنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































