
اداریے میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس زمانے میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ جیسی اہم تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ شیو سینا کے مطابق اس دور کی ترجیحات میں قومی تعمیر، عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار میں اضافہ اور سماج میں فرقہ وارانہ و مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل تھا۔
اداریے میں الزام لگایا گیا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، مرکزی تفتیشی بیورو، محکمہ انکم ٹیکس اور پولیس سمیت مختلف مرکزی ایجنسیوں کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس طرز عمل کے نتیجے میں آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور کئی خود مختار اداروں کی آزادی متاثر ہوئی۔ اداریے میں انتخابی کمیشن اور اعلیٰ عدالتی اداروں کی خود مختاری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔






