
نئی دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں بدھ، 11 فروری 2026 کو منعقدہ پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی : امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے تین دن بعد بھی پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہندوستان کی توانائی سلامتی پر اس کے اثرات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ان حملوں کے بعد خطے میں امریکی ٹھکانوں اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک پر جوابی حملے کیے گئے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد شروع ہونے والی ان کارروائیوں کے ہندوستان کے ایندھن اور توانائی کے شعبے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس حوالے سے سوالات ہنوز قائم ہیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز (دی اسٹریٹ آف ہرمز-ایک سمندری راستہ) کے مؤثر طور پر بند ہونے جیسی صورتحال بن گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کر چکے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزراء کی ایک کمیٹی ہندوستان پر نگرانیرکھے گی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ روس کے ساتھ تجارت نہ کر پائے۔ فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ہندوستان سستے روسی تیل کا فائدہ اٹھار ہا تھا۔
تاہم، دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق، تجزیاتی فرم کیپلر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی روسی خام تیل کی درآمد پہلے ہی کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ جنوری کے پہلے تین ہفتوں میں یہ خریداری گھٹ کر تقریباً 11 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو گزشتہ ماہ کے اوسط 12.1 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہے اور 2025 کے وسط میں یہ دو ملین (20 لاکھ) بیرل یومیہ سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر تھی۔
ایسی صورتحال میں مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافےکے درمیان ہندوستان کے پاس محدود متبادل رہ گئے ہیں۔
پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری، جن کا نام جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ای-میل تبادلے میں سامنے آنے کے باعث تنازعہ میں رہا ہے، نے اب تک مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے ہندوستان کی توانائی سلامتی پر اثرات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
پوری کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پروفائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں، جب خطے میں کشیدگی اضافہ ہوتا گیا، انہوں نے متعدد رہنماؤں کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔ 1 مارچ کو انہوں نے اپنے کابینہ ساتھی ویرندر کمار، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور منی پور کے وزیر اعلیٰ کھیم چند یمنام کو مبارکباد دی۔ 26 فروری کو انہوں نے صاف ایندھن کے طور پر سی بی جی (کمپریسڈ بایو گیس) کے استعمال پر پوسٹ کیا تھا اور 25 فروری کو وزیر اعظم مودی کے اسرائیل دورے سے متعلق مختلف اپڈیٹ شیئر کیے تھے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے سے ہندوستان کی توانائی رسد کے حوالے سے کئی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ایسے میں پوری کی خاموشی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔
کیپلر کی رپورٹ، جو جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، بتاتی ہے کہ ہندوستان کی خام تیل کی تقریباً 25 سے 27 لاکھ بیرل یومیہ درآمد اسی آبنائے ہرمزسے گزرتی ہے۔ یہ تیل بنیادی طور پر عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو سے تین مہینوں میں ہندوستانی ریفائنریوں نے روسی تیل سے فاصلہ اختیار کیا ہے، جس کے باعث مغربی ایشیائی تیل پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً، ہندوستان کی درآمدات میں خلیجی خطے سے آنے والے خام تیل کا حصہ بڑھ گیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کے مجموعی خام تیل کے بہاؤ کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان واقع یہ اہم سمندری راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق، اس آبنائے سے گزرنے والے خام تیل اور دیگر ایندھن کی تقریباً 82 فیصد کھیپ ایشیا جاتی ہے، جن میں چین، ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا اہم منزلیں ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد خلیجی ممالک پر ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں پہلے ہی تیزی سے اضافہ ہو چکا ہے۔
سوموار کو ایشیا میں تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک اضافہ ہوا۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت حال ہی میں 5.2 فیصد بڑھ کر 76.21 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل یہ 82.37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو ایک سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ سونے کی قیمت میں بھی 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2024-25 میں ہندوستان کی تقریباً 50 فیصد خام تیل اور 54 فیصد ایل این جی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے ہندوستان کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور روس سے برآمدات جاری رہتی ہیں، توہندوستان کو رسد ملتی رہ سکتی ہے، کیونکہ روسی بندرگاہیں آبنائے ہرمز پر منحصر نہیں ہیں۔ تاہم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد جوابی محصولات کے بعد ہندوستان کی روسی تیل خریداری پر سوال برقرار ہیں۔
گزشتہ ماہ راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں پوری نے کہا تھا کہ عالمی عدم استحکام کی صورت میں ہندوستان کا اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ 74 دنوں تک کی مانگ پوری کر سکتا ہے۔
وزیر نے کہا،’اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے کہ اگر پوری دنیا میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے، تو ہمارے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیےخاطرخواہ تیل موجود ہو۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا معیار ہے کہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ کم از کم 90 دن کا ہونا چاہیے۔’
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اپنے ذخائر کا حساب صرف انڈر گراؤنڈ کیورن میں رکھے گئے تیل سےہی نہیں، بلکہ ریفائنریوں میں دستیاب اسٹاک کو بھی شامل کر کے کرتا ہے۔
پوری نے کہا،’ہمارے کیورن آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ہیں اور ہم جلد ہی اڑیسہ میں بھی اس کی شروعات کرنے کی امید کر رہے ہیں۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔





