جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے زیر اہتمام پہلے پروفیسر گوپی چند نارنگ یادگاری خطبے کا انعقاد

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 27, 2026363 Views


پروفیسر کوثر مظہری نے ’متن اور قرأت کا باہمی رشتہ‘ موضوع پر خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے پروفیسر نارنگ کے نام سے یادگاری خطبہ منعقد کرنے پر ادارہ کے ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم کے لیے کلمات تحسین پیش کیے۔

<div class="paragraphs"><p>(دائیں سے بائیں) پروفیسر شہزاد انجم، ڈاکٹر سید محمد عامر، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر خالد محمود اور پروفیسر اقتدار محمد خاں</p></div><div class="paragraphs"><p>(دائیں سے بائیں) پروفیسر شہزاد انجم، ڈاکٹر سید محمد عامر، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر خالد محمود اور پروفیسر اقتدار محمد خاں</p></div>

i

user

نئی دہلی: جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ  لٹریری سینٹر کے زیر اہتمام مورخہ 26 فروری کو پہلے پروفیسر گوپی چند نارنگ یادگاری خطبہ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ خطبہ شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر اور معروف نقاد، شاعر و ناول نگار پروفیسر کوثر مظہری نے ’متن اور قرأت کا باہمی رشتہ‘ کے موضوع پر دیا۔ جلسہ کی صدارت ممتاز ادیب اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروفیسر خالد محمود نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈین، فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگو ئیجیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر اقتدار محمد خاں شریک ہوئے۔

اس موقع پر پروفیسر کوثر مظہری نے فرمایا کہ قرأت سے متن کی تمام جہتیں کھولی جا سکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کی متفقہ قرأت نہیں ہو سکتی، البتہ متن اور قرأت میں ایک گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ دونوں میں دوستی کے لیے دونوں میں قدر مشترک کے طور پر کچھ بھی ہونا ضروری ہے۔ متن کی فعالیت پر ہی قاری کی فعالیت کا دار و مدار ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر معروضی مطالعے کی بات کی جائے تو قرأت کے دوران ہماری پوری توجہ متن پر ہونی چاہیے لیکن اسے پوری طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ خود متن مصنف کے تہذیبی تناظر اور اس کی افتاد طبع کی چغلی کھاتا ہے۔

پروفیسر کوثر مظہری نے جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر میں عالمی شہرت یافتہ ادیب، نقاد، دانشور، ماہر لسانیات اور محقق پروفیسر گوپی چند نارنگ کے نام پر خطبے کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس انتخاب کے لیے ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم کے لیے کلمات تحسین پیش کیے۔

جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے زیر اہتمام پہلے پروفیسر گوپی چند نارنگ یادگاری خطبے کا انعقادجامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے زیر اہتمام پہلے پروفیسر گوپی چند نارنگ یادگاری خطبے کا انعقاد

پروفیسر گوپی چند نارنگ سالانہ یادگاری خطبے کی صدارت فرماتے ہوئے معروف شاعر اور نقاد پروفیسر خالد محمود نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی علمی و ادبی فتوحات اور ان کی گونا گوں خصوصیات کا بیان نہایت دلکش انداز میں کیا۔ پروفیسر خالد محمود نے جامعہ پریم چند آرکائیوز کے ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم کی کوششوں اور کاوشوں کو سراہا اور فرمایا کہ پروفیسر شہزاد انجم سے میں برسوں سے واقف ہوں۔ وہ جس ادارے میں جاتے ہیں، اپنی محنت اور لگن سے اس میں چار چاند لگا دیتے ہیں، اسے مزید فعال کر دیتے ہیں۔ ان میں بے پناہ تنظیمی صلاحیت ہے اور ادب سے ان کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ پروفیسر خالد محمود نے شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کو مبارکباد پیش کی کہ انھوں نے ایک نہایت لائق بردبار اور تجربہ کار استاد پروفیسر شہزاد انجم کو اس مرکز کا ڈائریکٹر بنایا ہے۔

پروفیسر خالد محمود نے اس موقع پر صدارتی خطبے کے علاوہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کی ذات و صفات پر تحریر کردہ اپنا مضمون ’اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے‘ بھی پڑھا جسے تمام حاضرین نے پسند کیا۔ اس یادگاری خطبے کے مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمد خاں نے پروفیسر گوپی چند نارنگ خطبے کے انعقاد پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انھوں نے پروفیسر نارنگ کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستگی اور ان کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے فرمایا کہ اپنے بزرگوں اور اکابرین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔

اس موقع پر تمام مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے جامعہ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف، رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی اور ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ ان کی منظوری اور بھرپور تعاون سے ہی اس خطبے کا انعقاد ممکن ہو سکا۔ پروفیسر شہزاد انجم نے خطبے کے مقرر پروفیسر کوثر مظہری، صدر جلسہ، پروفیسر خالد محمود، مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمد خاں اور تمام حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ بلاشبہ عبقری شخصیت کے مالک، ایک غیرمعمولی انسان تھے۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ ان کی 50 سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں جن کی ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ہوئی۔ وہ تقریباً 10 برسوں تک شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر اور صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ پروفیسر نارنگ جامعہ میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر بھی متمکن رہے۔ ان کی شناخت علم و ادب کی دنیا میں ایک محقق، نقاد، ماہر لسانیات اور دانشور کی رہی ہے۔ وہ دہلی اردو اکادمی کے وائس چئیرمین، قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین اور ساہتیہ اکادمی کے صدر بھی رہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ کثیر الجہات اوصاف کے حامل انسان تھے۔ ان میں خداداد صلاحیتیں تھیں۔ وہ بڑے اچھے مقرر تھے۔ ان کی تقریری صلاحیت کا سبھی لوہا مانتے تھے۔ پروفیسر نارنگ کو ملک و بیرون ملک متعدد اعلیٰ اعزازات و انعامات سے نوازا گیا۔ اپنے بزرگوں اور علمی شخصیات کا احترام لازمی ہے۔ اسی لیے اس خطبے کا انعقاد کیا گیا۔

اس خطبے کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اسنگدھا رائے نے پروفیسر گوپی چند نارنگ اور خطبے کے مقرر پروفیسر کوثر مظہری کا تعارف پیش کیا۔ جلسہ کی نظامت ڈاکٹر سید عامر نے کی۔ جلسہ کے اختتام پر تمام مہمانوں کا شکریہ شردھا شنکر نے ادا کیا۔ اس جلسہ میں پروفیسر تسنیم فاطمہ، پروفیسرحبیب اللہ خاں، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر شاہ عالم، پروفیسر سرور الہدیٰ، ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر سفیان احمد، ڈاکٹر شکیل اختر، ڈاکٹر لئیق رضوی، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر حنا آفریں، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر نوشاد عالم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر راحت افزا، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر خان محمد رضوان، ڈاکٹرثاقب فریدی، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر مخمور صدری اور بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...