
وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت ہندوستان کی آبادی کے حوالے سے بے حد فکر مند نظر آتی رہی ہے – کم از کم اب تک ان کے بیانوں سے یہی اشارہ ملتا رہا ہے۔
یوم آزادی 2019 کے موقع پر انہوں نے کہا تھا، ’ہمیں آبادی کے اضافے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے’ اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد 2020 میں انہوں نے کہا تھا، ’آبادی پر کنٹرول حب الوطنی کی ایک صورت ہے۔‘ انہوں نے چھوٹے خاندانوں کی حب الوطنی کی تعریف بھی کی تھی۔
سال 2024 کے عام انتخابات سے عین پہلے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے 1 فروری 2024 کو عبوری بجٹ 2024-25 پیش کرتے ہوئے کہا تھا، ’بڑھتی ہوئی آبادی اور آبادیاتی تبدیلیاں’ترقی یافتہ ہندوستان‘کے اہداف کے سامنے چیلنجز پیش کرتی ہیں۔‘
سیتارمن نے تجویز پیش کی کہ’تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور آبادیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر غور وخوض کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کمیٹی کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔
تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ اس کمیٹی میں کون کون شامل ہیں اور اب تک اس نے کیا کام کیا ہے۔
سال 2024 کے انتخابی مہم کے دوران مودی نے کئی بار’زیادہ بچے پیدا کرنے والوں‘کو ایک ایشو بنانے کی کوشش کی، خاص طور پر ہندی بیلٹ میں۔ انہوں نے راجستھان کے بانسواڑہ میں (غلط طریقے سے) یہ کہا تھا کہ پچھلی حکومت’زیادہ بچے پیدا کرنے والوں‘کو زیادہ وسائل دینا چاہتی ہے۔
ممکن ہے کہ’آبادی کے اضافے‘جیسے نعرے کچھ خاص برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے ہوں۔ ’ ہم پانچ، ہمارے پچیس‘جیسے طنزیہ جملے، جو انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف کہے تھے، پہلے سے درج ہیں۔
اس کے بعد بی جے پی کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان-جن میں انہوں نے ہندو خاندانوں کو’تین (یا اس سے زیادہ) بچے‘پیدا کرنے کا مشورہ دیا- سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ تشویش ترقی سے زیادہ فرقہ وارانہ تھی۔ یہ تشویش بنیادی طور پر غیر ہندو خاندانوں کی آبادی میں اضافے کے حوالے سے ظاہر کی گئی، جسے 2011 کی مردم شماری اور بعد کے اعداد و شمار نے مسترد کر دیا ہے۔
اب یہ تشویش اچانک غائب ہوتی نظر آ رہی ہے، وہ بھی بغیر کسی واضح وجہ کے۔
ایک ڈرامائی موڑ میں مودی حکومت اب آبادی میں اضافے کو انعام دینے کی سمت میں قدم اٹھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ وہ لوک سبھا کے حجم کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے لیے’خواتین ریزرویشن‘کے نعرے کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے (جبکہ یہ پہلے ہی قانون بن چکا ہے)۔
مجوزہ تین بلوں کی ساخت کے مطابق، مرکزی حکومت جان بوجھ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ اتر پردیش، بہار، راجستھان، چھتیس گڑھ، اتراکھنڈ، دہلی اور گجرات جیسی ریاستوں کو باقی ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فائدہ ہوگا۔
وہیں، دستیاب اعداد و شمار اور آبادیاتی رجحانات کے مطابق، آبادی کے ماہرین پہلے ہی ’آبادی کے اضافے‘کے تصور کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں مجموعی طور پرزرخیزی کی شرح میں تیزی سے کمی آئی ہے اور کئی علاقوں میں یہ 2.1 (آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری سطح) سے بھی نیچے پہنچ چکی ہے۔
پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پونم متریجا نے کہا ہے، ’ملک میں آبادی کے اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہندوستان میں آبادیاتی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا،’ہندوستان کی مردم شماری کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2001–2011 کے درمیان دہائی کے لحاظ سےآبادی میں اضافے کی شرح 1991–2001 کے 21.5 فیصد سے کم ہو کر 17.7 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مجموعی طور پر ہندوستان کی زرخیزی کی شرح بھی 2000 میں 3.2 سے کم ہو کر 2018 کے سیمپل رجسٹریشن سسٹم کے مطابق 2.2 ہو گئی ہے۔‘






