سپریم کورٹ نے پولیس تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کمی کو لے کر مرکزی حکومت اور دیگر فریقین کو ہدایت دی ہے کہ وہ مرکزی ڈیش بورڈ اور سی سی ٹی وی کے معیاری نظام سے متعلق میٹنگ میں لازمی طور پر شرکت کریں۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے امیکس کیوری سینئر ایڈووکیٹ سدھارتھ دوے کے دلائل سننے کے بعد یہ حکم جاری کیا۔
سدھارتھ دوے نے بتایا کہ 21 فروری کو ہونے والی میٹنگ میں مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور کچھ ریاستیں شریک نہیں ہوئیں تھیں، جس کی وجہ سے رپورٹ داخل نہیں کی جا سکی تھی۔ ان دلائل پر غور کرتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ حکومت ہند کے وکیل پہلے ہی معذرت کر چکے ہیں کہ مواصلاتی خرابی کی وجہ سے وہ میٹنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ حالانکہ انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلی میٹنگ میں وہ مکمل تعاون کریں گے۔
بنچ نے کہا کہ امیکس کیوری نے میٹنگ کے لیے 14 مارچ کی تاریخ تجویز کی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگلی میٹنگ 14 مارچ کو ہوگی اور تمام فریقین کو اس میں تعاون کرنا ہوگا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 23 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں تھانوں میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے ایک میڈیا رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشنوں میں فعال سی سی ٹی وی کیمروں کی کمی پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے عوامی مفاد کی عرضی درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے 2018 میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام اور ان کی تحقیقات کے لیے پولیس اسٹیشنوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا تھا۔
دسمبر 2020 میں سپریم کورٹ نے مرکز کو سی بی آئی، ای ڈی اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سمیت تحقیقاتی ایجنسیوں کے دفاتر میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ریکارڈنگ کا سامان نصب کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام پولیس اسٹیشن میں، تمام داخلی اور خارجی راستوں پر، مرکزی دروازے پر، لاک-اپ میں، راہداریوں، لابی اور ریسپشن میں، ساتھ ہی لاک-اپ کمروں کے باہر کے حصوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں تاکہ کوئی بھی حصہ سیکورٹی کے بغیر نہ رہ جائے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ سی سی ٹی وی سسٹم میں نائٹ وِژن کی سہولت ہونی چاہیے اور اس میں ویڈیو کے ساتھ ساتھ آڈیو فوٹیج بھی ہونی چاہیے۔ عدالت نے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایسے سسٹم خریدنا لازمی قرار دے دیا ہے، جو کم از کم ایک سال تک ڈیٹا محفوظ کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہوں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































