
وقت کے ساتھ پنجاب میں دیگر ریاستوں سے آنے والے مہاجرین کی تعداد مختلف مطالعات میں 91.89 لاکھ سے بڑھ کر 1.37 کروڑ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ پنجاب کے مجموعی ووٹر بیس کے مقابلے میں یہ ایک غیر معمولی تعداد ہے۔
اس کے سیاسی مضمرات بھی بہت وسیع ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار پروفیسر منجیت سنگھ کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ ووٹر فہرست سے کن ناموں کو ہٹایا جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کن ناموں کو شامل کیا جاتا ہے۔ پنجاب آنے والے زیادہ تر مہاجرین اتر پردیش، بہار اور راجستھان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کا سیاسی اثر و رسوخ کافی مضبوط ہے۔ یہ اثر پنجاب میں انتخابی فائدے میں تبدیل ہو پائے گا یا نہیں، یہ ابھی غیر یقینی ہے لیکن یہی اندیشہ سیاسی طور پر ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔
اسی لیے بحث اب صرف انتخابی عمل تک محدود نہیں رہی۔ یہ آبادی میں تبدیلی اور سیاسی شناخت سے متعلق ایک وسیع تر تشویش میں تبدیل ہو چکی ہے۔






