
عافیہ حمید کے افسانوں میں عورت موضوع ضرور ہے، مگر صرف عورت موضوع نہیں۔ مردوں کی نفسیاتی شکست، طبقاتی تقسیم، شہری تنہائی، کورونا کی تباہ کاریاں، بچوں کی بھوک، جنسی تشدد کے بعد کی خاموشی، سب کچھ موجود ہے۔ وہ آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے میں ماہر ہیں۔ ان کے ہاں نہ کوئی جارحانہ فمینیائی نعرے بازی ہے، نہ سماجی تبدیلی کا کوئی کھوکھلا دعویٰ؛ بس ایک ہلکی سی چبھن ہے جو پڑھنے کے بعد قاری کو دل میں مسلسل محسوس ہوتی رہتی ہے۔
ان کے افسانوں کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے چند اقتباسات ہی کافی ہیں:
’’…اس کو خیال آیا کہ پتہ نہیں کتنے لوگ ہوں گے اور وہ اس عورت کو ایسی حالت میں دیکھیں گے، برہنہ، خون میں لت پت۔ جسم شاید کئی درندوں نے مل کر نوچا تھا۔ پاس ہی اس کی جوتی اور پرس پڑا تھا مگر کپڑے کا کچھ پتہ نہ تھا۔ ….اس نے سوچا کاش میرے پاس کوئی کپڑا ہوتا۔ دوسرے پل اس کو خیال آیا، کالی ساڑی… نہیں نہیں…وہ تو نجو کے لیے…ایک لمحے کو وہ خود غرض ہونے لگا مگر خیال آیا اگر اس لڑکی کی جگہ نجو ہوتی تو…اسے کپکپی آ گئی۔ اس نے بلا کچھ سوچے تھیلے سے ساڑی نکال کر اس برہنہ بدن پر ڈال دی۔ اس نے دیکھا، لڑکی نے پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔‘‘






