
صدر نے یہ ریفرنس اس پس منظر میں بھیجا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں گورنر اور صدر کو ریاستی بلوں پر کارروائی کے لیے تین ماہ کی زیادہ سے زیادہ مدت مقرر کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ گورنر دوبارہ پارلیمان یا ریاستی اسمبلی سے منظور شدہ بل پر ایک ماہ کے اندر فیصلہ دینے کے پابند ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد صدر مرمو نے آئینی تشویش ظاہر کی اور سپریم کورٹ سے وضاحت طلب کی کہ آیا عدالت آئین میں موجود خاموشی کو بنیاد بنا کر گورنر یا صدر کے لیے مدت طے کر سکتی ہے یا نہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ یہ ہدایت آئینی اختیارات اور وفاقی ڈھانچے کی بنیادی روح سے متعلق حساس سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ریفرنس میں اٹھائے گئے 14 اہم سوالات میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا گورنر آرٹیکل 200 کے تحت ریاستی بلوں پر فیصلے کے لیے اپنے صوابدیدی اختیار کو غیر معینہ مدت تک استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا گورنر وزارتی کونسل کی تجویز کے پابند ہیں یا وہ اپنے فیصلے میں آزادانہ اختیار رکھتے ہیں۔





