
سپریم کورٹ نے ان ووٹرز کو اپیل کا مشورہ دیا، لیکن ٹربیونل شروع ہونے سے پہلے ہی انتخاب کا دن آ پہنچا۔ عدالت نے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی بار ووٹ ڈال لینا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن نے بنگال میں اس ’رکاوٹ دوری‘ کے ذریعے بی جے پی کی جیت کا راستہ ہموار کر دیا ہے؟ بلاشبہ کوشش کی گئی ہے، لیکن نتیجہ اسی صورت بدل سکتا ہے جب بی جے پی خود جیت کے قریب ہو۔ موجودہ اشارے اس کی تصدیق نہیں کرتے اور سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی اب بھی پیچھے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ’اشو میدھ یگیہ‘ مکمل کرنے کے لیے انتخاب کے دن ملک بھر سے لائی گئی سیکورٹی فورسز کا استعمال کیا جائے گا؟ اور کیا ایک فرد کے تکبر کو پورا کرنے کے لیے جمہوری اقدار کی قربانی دی جائے گی؟ اس کا جواب جلد سامنے آ جائے گا۔






