علامہ اقبال، جنہوں نے زبان کو فلسفہ اور انسان کو شعور دیا…حسنین نقوی

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 9, 2025364 Views


ایسے اشعار اُن کے اُس خواب کی تعبیر تھے جو ایک روحانی اور متحد ہندوستان کو دیکھتا تھا۔ مگر جب وہ یورپ سے واپس آئے تو اُن کی نگاہوں کا زاویہ بدل چکا تھا۔ اب اُن کی توجہ صرف ایک ملک یا قوم تک محدود نہ رہی بلکہ انسان کے اندر موجود الوہی جوہر—خودی—تک جا پہنچی۔

اقبال کے نزدیک ’خودی‘ محض انا یا خود پرستی نہیں بلکہ وہ الوہی شعور ہے جو انسان کو خالق سے جوڑتا ہے۔ اُن کے نزدیک زوال اُس وقت آتا ہے جب انسان اپنی خودی کو فراموش کر دیتا ہے۔ اُن کے مشہور اشعار اس مفہوم کو جاوداں کر گئے:

’’خودی کو کر بلند اتنا

کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے

بتا، تیری رضا کیا ہے؟‘‘

اقبال کے نزدیک آزادی صرف سیاسی نہیں بلکہ روحانی کیفیت ہے جو عشق، عمل اور یقین سے جنم لیتی ہے۔ اُن کے الفاظ میں:

’’غلامی میں نہ کام آتی ہیں نہ شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں‘‘

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...