ہماچل پردیش کی سکھوندر سنگھ سکھو حکومت نے ریاست کی بگڑتی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک سخت قدم اٹھایا ہے۔ ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 6 ماہ تک اعلیٰ افسران کو 30 فیصد کم تنخواہ ملے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست کی معاشی حالت بہتر ہونے پر ان کی روکی گئی تنخواہ واپس کر دی جائے گی۔ مالیاتی دباؤ کے سبب ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
محکمہ مالیات کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ چیف سکریٹری سے لے کر ضلع فوریسٹ افسر سطح تک کے افسران کی تنخواہ میں 30 فیصد کی تخفیف آئندہ 6 ماہ کےل یے کی جائے گی۔ یعنی انھیں 70 فیصد تنخواہ ملے گی۔ یہ انتظام اپریل ماہ کی تنخواہ سے نافذ ہوگا، جس کی ادائیگی مئی 2026 میں کی جائے گی۔ حکومت نے اس قدم کو مالیاتی وسائل کے بہتر مینجمنٹ کی سمت میں ضروری قدم قرار دیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ تخفیف مستقل نہیں ہے، بلکہ روکی گئی تنخواہ معاشی حالت بہتر ہونے کے بعد ملازمین کو واپس دی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ رقم پنشن، لیو انکیشمنٹ اور دیگر سہولیات میں شامل مانی جائے گی تاکہ ملازمین کے پی ایف وغیرہ پر اس کا اثر نہ پڑے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس فیصلہ کا دائرہ صرف اعلیٰ افسران تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ مختلف سطحوں کے ایڈمنسٹریٹو اور پولیس افسران پر بھی یہ نافذ ہوگا۔ پہلے ہی حکومت وزیر اعلیٰ، وزراء اور اراکین اسمبلی کی تنخواہ میں عارضی تخفیف کر چکی ہے۔ حکومت مالی بحران سے نمٹنے کے لیے سبھی ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔ بہرحال، حکومت نے ان ملازمین کو راحت دینے کا انتظام کیا ہے، جو بینک قرض کی قسط ادا کر رہے ہیں۔ ایسے ملازمین متعلقہ افسر کو درخواست دے کر یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ پہلے ان کے قرض کی قسط کٹے، اس کے بعد بقیہ تنخواہ پر ہی تخفیف نافذ ہو۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































