
نئی دہلی: مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کف سیرپ کے استعمال سے کم از کم 14 بچوں کی ہلاکت نے ملک بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس سنگین معاملے میں وکیل وشال تیواری نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے، جس میں غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قصورواروں کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ کولڈرف کف سیرپ میں ڈائی ایتھیلین گلائیکول (ڈی ای جی) اور ایتھیلین گلائیکول (ای جی) کی مقدار خطرناک حد تک موجود تھی۔ ڈی ای جی کی مقدار 48.6 فیصد پائی گئی، جو معیاری حد سے تقریباً 500 گنا زیادہ ہے۔ یہ کیمیائی مرکب صنعتی استعمال کے لیے ہے اور دوا میں ملا دینے سے گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ چھندواڑہ، مدھیہ پردیش میں 9، راجستھان میں 2 اور دیگر ریاستوں میں بھی اموات ہوئی ہیں۔






