
ڈاکٹر نریش کمار نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ راشن تقسیم کا نظام بنیادی طور پر معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقوں کو سہارا فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آمدنی کی حد میں نمایاں اضافے کے بعد مستفید ہونے والوں کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں کے مفادات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کی موجودگی میں حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ کمزور اور ضرورت مند افراد کو ترجیح دے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سالانہ 2.50 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے خاندان بھی اسی زمرے میں شامل ہو جائیں گے تو حکومت غریب ترین خاندانوں کو ترجیحی بنیادوں پر فائدہ پہنچانے کو کیسے یقینی بنائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ نئے معیار کے تحت کتنے اضافی خاندان راشن کارڈ کے اہل بن جائیں گے اور اس فیصلے کا موجودہ مستفیدین پر کیا اثر پڑے گا۔






