کرناٹک میں مختلف دفاتر و کمپنیوں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے پیریڈ لیو کی پالیسی سے متعلق کانگریس حکومت نے بڑی پیش قدمی کی ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد ریاستی حکومت نے اس پالیسی کو سبھی سیکٹرس میں جلد از جلد اور سختی سے نافذ کرنے کی بات کہی ہے۔ ریاست کے وزیر برائے محنت سنتوش لاڈ نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کی اس ہدایت کا استقبال کرتے ہیں اور حکومت اسے پورے عزائم کے ساتھ نافذ کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ پالیسی کام کرنے والی خواتین کے حقوق اور احترام سے جڑی ایک اہم پیش قدمی ہے۔
وزیر برائے محنت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ریاستی حکومت اس دیرینہ پیریڈ لیو کو وسیع طور پر نافذ کرنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے اور اسے ملک کے لیے ایک ماڈل کی شکل میں قائم کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مجوزہ پالیسی کے تحت خواتین کو ہر مہینے ایک دن کی ادائیگی سمیت تعطیل دی جائے گی، جو سال میں مجموعی طور پر 12 دن ہوگی۔ یہ سہولت سبھی شعبوں میں نافذ کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ حکم میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ مجوزہ قانون کے رسمی طور سے نافذ ہونے تک بھی اس پالیسی کو سختی اور ایمانداری کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پیریڈ لیو خواتین کے وقار، انصاف اور ان کی مجوزہ زندگی کے حالات کی اخلاقی منظوری سے جڑا معاملہ ہے۔ عدالت نے حکم سے یہ یقینی بنانے کو کہا کہ اس درمیان پالیسی کو اثردار بنانے کے لیے ضروری گائیڈلائن، سرکلر اور ایڈمنسٹریٹو حکم جاری کیے جائیں تاکہ سبھی شعبوں میں اس پر یکساں اور سخت عمل درآمد ہو سکے۔
یہ ہدایت دھارواڑ بنچ میں اس عرضی پر سماعت کے دوران دی گئی، جو 41 سالہ چندروّا ہنومنت گوکاوی نے داخل کی تھی۔ گوکاوی بیلگاوی ضلع کے گوکاک تعلقہ کے مدلگی واقع ایک ہوٹل میں کام کرتی ہیں۔ انھوں نے 20 نومبر 2025 کو جاری ریاستی حکومت کے اس حکم کو نافذ کرانے کا مطالبہ کیا تھا، جس میں سبھی کام کرنے والی خواتین کے لیے ایک دن کے پیریڈ لیو کا التزام کیا گیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































