مغربی افریقی ملک نائجر کے صحرائے سہارا سے ایک انتہائی دردناک خبر سامنے آئی ہے۔ عید الاضحیٰ منانے کے لیے اپنے گھروں کو لوٹنے والے 49 افراد پیاس کی شدت کے باعث تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار گئے۔ شدید گرمی کے دوران ریگستان کے بیچوں بیچ ٹرک کا خراب ہو جانا ان مسافروں کے لیے موت کا سبب بن گیا۔ اس المناک حادثہ نے ایک بار پھر سہارا کے خطرناک راستوں اور وہاں کی سخت و ناموافق صورت حال کو اجاگر کر دیا ہے۔
نائجر کے صوبہ اگاڈیز کے حکام کے مطابق یہ تمام افراد مالی سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منانے کے لیے نائجر واپس آ رہے تھے۔ سفر کے دوران اسمکا سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ان کا ٹرک اچانک خراب ہو گیا۔ ڈرائیور، اس کے معاونین اور مسافروں نے ٹرک کو ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پینے کے پانی کا محدود ذخیرہ جلد ہی ختم ہو گیا اور جھلسا دینے والی دھوپ اور انتہائی بلند درجۂ حرارت کے درمیان مسافر ریگستان میں پھنس کر رہ گئے۔ خوراک اور پانی کی فراہمی کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہونے کے باعث ایک ایک کر کے 49 افراد دم توڑ گئے۔
اس ہولناک سانحے میں 2 افراد معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے شدید گرمی میں تقریباً 50 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ پہلے وہ پانی کے ایک ذخیرے تک پہنچے اور پھر اسمکا شہر جا کر حکام کو اس دل خراش واقعے کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی گورنر جنرل ابراہ بُلاما عیسیٰ کی قیادت میں ایک ٹیم موقع پر پہنچی، جہاں ٹرک کے نیچے اور اس کے اطراف درجنوں لاشیں پڑی ہوئی ملیں۔ امدادی کارکنوں نے تمام متاثرین کو وہیں اجتماعی قبروں میں سپرد خاک کر دیا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ علاقہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے گزر کر وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مالی کے شہر تلہانڈیک سے روانہ ہونے والا یہ ٹرک کئی روز تک ریگستان کے دشوار گزار راستوں پر سفر کرتا رہا۔ سہارا کا یہ خطہ اپنی سخت جغرافیائی صورت حال اور ریکارڈ توڑ گرمی کے لیے مشہور ہے، جہاں معمولی سی تکنیکی خرابی بھی موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگاڈیز انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک بڑا انسانی المیہ قرار دیا ہے۔
































