پی ایم مودی کی ایندھن بچانے اور سونا نہ خریدنے کی اپیل پر اپوزیشن کا حملہ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 11, 2026361 Views


وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کھانا پکانے کے تیل کی کم کھپت اور کھاد کے کم استعمال کی بھی اپیل کی ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی کو انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی سکندرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

وزیر اعظم نریندر مودی سکندرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مکمل ہوئے انتخابات کے چھ دن بعد، اتوار (10 مئی) کو سکندرآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان عوام سے سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر کم کرنے، پیٹرول کم استعمال کرنے اور ورک فرام ہوم  کی اپیل کی ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کے لیے یہ ’بحران کا وقت‘ہے اور یہ’اپنے فرائض کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے کچھ عہد کرنے‘کا لمحہ ہے۔

انہوں نے شہریوں سے فوسل فیول کی کھپت کم کرنے، غیر ضروری درآمدات سے بچنے اور زیادہ’آتم نربھر یعنی خود انحصاری‘والی عادتیں اپنانے کی اپیل کی- خصوصی طور پر غیر ملکی زرِ مبادلہ بچانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عزائم کو’پوری ایمانداری‘کے ساتھ پورا کیا جانا چاہیے۔

ڈی ڈی نیوزکے مطابق، پی ایم مودی نے کہا،’آپ پوری دنیا میں چیلنجز دیکھ رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بحران جاری ہے اور جنگ کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ہندوستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہے۔ ‘

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اس وقت 2021 کی بلند ترین سطح، یعنی تقریباً 690 ارب امریکی ڈالر، سے کافی نیچے ہیں۔ رواں مالی سال میں ان میں دو بار بڑی گراوٹ  آئی ہے ،پہلی بار تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر اور دوسری بار تقریباً 7.7 ارب امریکی ڈالر کی۔

اس پس منظر میں وزیر اعظم نے عوام سے کچھ’وعدے‘کرنے کو کہا، جن میں ایک سال کے لیے اپنی طرز زندگی میں تبدیلی لانا شامل ہے، تاکہ ملک کو اس بحران سے نکلنے میں مدد مل سکے۔

ان کی تقریر کا بڑا حصہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کو ذاتی رویوں میں تبدیلی کے طور پر پیش کرتا ہے، جس میں خاندانوں، مزدوروں اور صارفین سے اخراجات (کھانا پکانے کے ذرائع سمیت) اور غیر ضروری درآمدات میں کمی کی اپیل کی گئی، جبکہ کسانوں سے کھاد کے استعمال میں بھاری کمی کرنے کو کہا گیا ہے۔

تاہم، وزیر اعظم کی اس اپیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر جانے کے باوجود حکومت کے پاس توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔

اپوزیشن نے کہا-انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا

وزیر اعظم مودی کے بیان پر لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ ناکامی کا ثبوت ہے، اور اب عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ کیا خریدیں اور کیا نہیں۔

راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا،’مودی جی نے کل عوام سے قربانی مانگی – سونا مت خریدو، بیرون ملک مت جاؤ، پیٹرول کم جلاؤ، کھاد اور کھانے کا تیل کم استعمال کرو، میٹرو میں سفر کرو، گھر سے کام کرو۔ یہ نصیحتیں نہیں، بلکہ ناکامی کے ثبوت ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا،’12 سال میں ملک کو اس مقام پر پہنچا دیا گیا ہے کہ عوام کو بتانا پڑ رہا ہے – کیا خریدیں، کیا نہ خریدیں، کہاں جائیں، کہاں نہ جائیں۔ ہر بار ذمہ داری عوام پر ڈال دی جاتی ہے تاکہ خود جوابدہی سے بچ سکیں۔ ملک چلانا اب ایک کمپرومائزڈ وپی ایم کے بس کی بات نہیں رہی۔ ‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری کےسی وینو گوپال نے بھی وزیر اعظم مودی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کے بجائے حکومت عوام کو ہی مشکلات میں ڈال رہی ہے۔

کے سی وینوگوپال نے ایکس پر لکھا،’یہ انتہائی شرمناک، غیر ذمہ دارانہ اور مکمل طور پر غیر اخلاقی ہے کہ وزیر اعظم اس عالمی بحران سے ہماری معیشت کو بچانے کے لیے کوئی ہنگامی منصوبہ بنانے کے بجائے عام شہریوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا،’جب انتخابات اور گھٹیا سیاست ہی وزیر اعظم کی واحد ترجیح بن جائے، تو اس کا انجام ایک قریب الوقوع معاشی تباہی ہی ہوتا ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو یہ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کرنے چاہیے کہ ہمارے پاس ایندھن کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہو، اور ان کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کسی بھی شہری کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

وزیراعظم کی اپیل کے بعد سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادونے کہا کہ انتخابات ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا۔

اکھلیش یادو نے ایکس پوسٹ میں لکھا،’سونا نہ خریدنے کی اپیل عوام سے نہیں بلکہ بی جے پی والوں کو اپنے بدعنوان لوگوں سے کرنی چاہیے، کیونکہ عوام تو ویسے بھی ڈیڑھ لاکھ روپے تولہ سونا خریدنے کے قابل نہیں ہیں۔ بی جے پی والے ہی اپنی کالی کمائی کو سونے میں تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا،’ ویسے تمام پابندیاں انتخابات کے بعد ہی کیوں یاد آئیں؟ بی جے پی والوں نے انتخابات میں جو ہزاروں چارٹر فضائی سفر کیے، کیا وہ پانی سے اڑ رہے تھے؟ کیا وہ ہوٹلوں میں نہیں ٹھہر رہے تھے یا سلنڈر کی تصویر لگا کر کھانا بنا رہے تھے؟ بی جے پی والوں نے انتخابی مہم ویڈیو کانفرنسنگ سے کیوں نہیں چلائی؟ اس طرح کی اپیلوں سے تجارت، کاروبار اور بازار میں مندی یا مہنگائی کے خدشے کے باعث خوف، گھبراہٹ، بے چینی اور مایوسی پھیل جائے گی۔ حکومت کا کام اپنے بے شمار وسائل کا درست استعمال کر کے ہنگامی حالات سے نکالنا ہوتا ہے، نہ کہ خوف یا افراتفری پھیلانا۔‘

وزیراعظم نریندر مودی کی قوم سے اپیل پرراشٹریہ جنتادل کے ایم پی منوج کمار جھا نے کہا،’کیا ڈھائی مہینے پہلے کوئی اور وزیراعظم تھا؟ یا اب جا کر انہیں احساس ہوا ہے کہ وہ ملک کے وزیراعظم ہیں؟ 28 فروری سے ہی عالمی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ وزیراعظم بیان بازی کی تمام حدیں پار کر رہے ہیں۔ کیا وہ پانچ انتخابات ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے؟ ان ڈھائی سے تین مہینوں میں آپ کی طرف سے کسی نے بھی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ بلکہ جب بھی ہم (اپوزیشن) میں سے کسی نے سوال اٹھایا تو آپ کہتے تھے،’پینک مت پھیلائیے۔‘ یہ صورتحال راتوں رات پیدا نہیں ہوئی…‘

وزیراعظم کی تقریر میں درج ذیل باتیں کہی گئیں-

پیٹرول اور ڈیزل کے کم استعمال کی اپیل

وزیراعظم مودی نے لوگوں سے ایک بڑا عہد لینے کو کہا کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کا محدود اور محتاط استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن شہروں میں میٹرو ریل سروس موجود ہے وہاں کے لوگوں کو طے کرنا چاہیے کہ وہ صرف میٹرو ہی استعمال کریں گے۔ اس کے علاوہ اگر کار سے سفر ضروری ہو تو کار پولنگ کی  کوشش کی جائے اور الکٹرک گاڑیوں کا زیادہ استعمال کیا جائے۔

معلوم ہو کہ 2020 میں میٹرو ریل سروس 18 شہروں میں دستیاب تھی اور اب (مارچ 2026 تک) یہ 20 شہروں میں دستیاب ہے، جو تقریباً 1,095 کلومیٹر علاقے کا احاطہ کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مال برداری کے لیے لوگوں کو ریلوے مال گاڑیوں کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ فوسل فیول کی کھپت کم ہو۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی 85 فیصد سے زیادہ ضرورت درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے معیشت عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔

دفتری ملازمین اور مزدوروں کے لیے

کووڈ-19 وبا کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے لوگوں کو گھر سے کام کرنے، آن لائن میٹنگ اور ویڈیو کانفرنسنگ کی یاد دلائی، جو ہندوستان میں طویل لاک ڈاؤن کے دوران عام ہو گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں نے ایسی کئی آن لائن خدمات کو’مقبول‘بنا دیا تھا اور ہم ان کے عادی بھی ہو گئے ! آج انہوں نے کہا کہ ان خدمات کو دوبارہ شروع کرنا وقت کی ضرورت ہے اور یہ قومی مفاد میں ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج ہندوستان جس بحران کا سامنا کر رہا ہے، اس میں لوگوں کو ان تبدیلیوں کو بڑے پیمانے پر اپنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مہنگے ایندھن کی خریداری پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کو بچانا اب شہریوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا،’پیٹرول اور ڈیزل بچا کر ہم اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی ملک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔‘

متوسط طبقے کی طرز زندگی اور سونے کی خرید پر قابو

وزیراعظم کے مطابق متوسط طبقے میں بیرون ملک تعطیلات منانے، سفر کرنے اور بیرون ملک شادیاں کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ وقت بحران کا دور ہے، اس لیے لوگوں کو حب وطن کے تحت کم از کم ایک سال کے لیے بیرون ملک جانے کا ارادہ ملتوی کر دینا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی، ’ہندوستاب میں بہت سی جگہیں ہیں – ہم وہاں جا سکتے ہیں! ‘

وزیراعظم نے لوگوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ سونا خریدنے سے گریز کریں، چاہے وہ سرمایہ محفوظ رکھنے کے لیے ہو یا زیورات کی شکل میں۔ انہوں نے کہا کہ سونا خریدنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑی کمی آتی ہے، اور لوگوں کو اُس وقت کی یاد دلائی جب بحران کے دوران لوگ اپنی سونے کی دولت عطیہ کر دیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا، ’ آج ایسے عطیے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن ملک کے مفاد میں ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ایک سال تک ہم خاندان میں کسی بھی تقریب یا پروگرام کے لیے سونا نہ خریدیں گے اور نہ ہی تحفے میں دیں گے۔ ‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ محدود کھپت کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گھریلو کھپت ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک بنی ہوئی ہے۔ اقتصادی سروے 2025-26 میں بتایا گیا ہے کہ نجی حتمی صارف اخراجات مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا 60 فیصد سے زیادہ ہیں۔

اس کے علاوہ ہندوستان کے کل درآمدی بل میں سونے کا حصہ تقریباً 5 فیصد ہے، اور ملک نے مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 71.98 ارب امریکی ڈالر کا سونا درآمد کیا۔

تاہم، مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث مقدار کے لحاظ سے سونے کی درآمد میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی، جو 2024-25 میں 757.09 ٹن سے کم ہو کر 721.03 ٹن رہ گئی۔

تانبے کے درآمدی بل کے لیے مزدور ذمہ دار

وزیراعظم نے ہندوستان کے تانبے پر انحصار کا ذکر کرتے ہوئے اس صورتحال کے لیے مزدوروں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ مودی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کن تانبے کے کارخانوں یا ہڑتالوں کا ذکر کر رہے تھے، جب انہوں نے کہا، ’ ہڑتالوں کی وجہ سے ہندوستان میں تانبے کے کارخانے بند ہو گئے ہیں اور اب حالات ایسے ہیں کہ زرمبادلہ تانبے کی درآمد پر خرچ ہو رہا ہے۔ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی اسی پر خرچ ہو رہے ہیں۔‘

سال2018میں تمل ناڈو میں ویدانتا اسٹرلائٹ کاپر پلانٹ کو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ اسی سال تھوتھوکڑی میں اسٹرلائٹ مخالف مظاہروں کے دوران پولیس فائرنگ میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انہوں نے مزدور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہندوستان کو خود کفیل بنانے میں رکاوٹ ڈالنے والی کسی بھی چیز سے انہیں خود کو دور رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’ اور جو لوگ ایسی سازشوں میں شامل ہیں، ان پر بھی کڑی نظر رکھنی ہوگی۔‘

کھانا پکانے کے تیل کی کھپت کم کریں

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کے کھانا پکانے کے تیل کی درآمد سے ملک کو بہت نقصان ہوتا ہے اور کہا کہ جو خاندان کھانا پکانے کے تیل کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اس کی کھپت کم کرنی چاہیے، اگر ممکن ہو تو صرف 10 فیصد تک، تاکہ ملک کے خزانے اور خاندان کی صحت میں بہتری آ سکے۔

انہوں نے کہا، ’ اگر ہم تیل کا کم استعمال شروع کر دیں، تو یہ بھی ملک کے لیے ایک بڑا تعاون ہوگا۔‘

صارفی امور کی وزارت کے ستمبر 2021 کے پریس نوٹ کے مطابق، ہندوستان اپنے خوردنی تیل کا 60 فیصد درآمد کرتا ہے، جس سے وزیر اعظم کے تجویز کردہ اقدامات کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہوتی ہے۔

توانائی کی سلامتی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کھانا پکانے والی گیس کے سلنڈروں پر بات نہیں کی، جن کی عدم دستیابی کے حوالے سے ملک کے مختلف حصوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

کھادوں کا استعمال کم کریں، قدرتی کھیتی کی طرف بڑھیں

وزیراعظم مودی نے کہا کہ کیمیائی کھادوں پر درآمدی انحصار دھرتی ماں اور زرعی علاقوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس سے کسانوں اور عوام کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا، ’ ہمیں کیمیائی کھادوں کا استعمال 25-30-40-50 فیصد تک کم کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے قدرتی کھیتی کی طرف بڑھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’ اسے کم کریں، آدھا کر دیں۔‘

مرکزی حکومت کے مطابق، ہندوستان اب بھی فاسفیٹک اور پوٹیشیم والی کھادوں اور ان کے خام مال کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ہندوستان کی نوجوان اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کھادوں پر سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔

مودی نے کہا کہ ہندوستان کو بیرونِ ملک سے آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا اور انہوں نے ڈیزل جنریٹرز کی جگہ کھیتوں میں سولر پمپ لگانے کے حکومت ہند کے پروگرام کا ذکر کیا۔

جوتے، بیگ، پرس کی درآمد بند کریں

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانیوں کو جوتے، بیگ اور پرس سمیت ہر قسم کی گھریلو اشیا خریدنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ اپنے پاس موجود غیر ملکی اشیا کو پھینک دیں، ہمیں بس نئی غیر ملکی اشیا خریدنا بند کر دینا چاہیے۔‘

یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب ہندوستان نے حالیہ مہینوں میں کئی ممالک اور تجارتی گروپوں کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں، جس سے سرحد پار تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور درآمدی اشیا پر محصولات کم ہوئے ہیں۔

یہ تقریر ان تمام موضوعات کو اعادہ کرتی ہے جن کا ذکر مرکزی حکومت اور وزیراعظم نے کووڈ-19 وبا کے دوران آتم نربھر بھارت پروگرام شروع کرنے کے بعد سے بار بار کیا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...